Faiz
Faiz
Faiz
Ghazalغزل
چاہتوں کو نت نئے انداز سے دیکھا کرو وصل کی راحت میں فرقت کا سماں لکھا کرو کیا پتہ ان کی بھی لگ جائے کوئی قیمت کہیں سنگریزوں کو بھی ہیروں کی طرح پرکھا کرو ذات کے صحرا میں کر پاؤ گے کیا اپنی تلاش عمر بھر پیچھے سراب زیست کے بھاگا کرو اک ہوائے تند کا جھونکا اڑا لے جائے گا ریت کے سینے پہ کوئی نام مت لکھا کرو تم بہت گھبرا گئے گھر کی ویرانی سے فیضؔ اب ہجوم شہر میں تنہائیاں ڈھونڈا کرو
chaahaton ko nit-nae andaaz se dekhaa karo
ہمیں تو ساحل دریا کی پیاس ہونا تھا سکوت ہجر کا اک غم شناس ہونا تھا کھلا ہے اس طرح اب کے نئی رتوں کا بھرم زمیں کو اتنا کہاں بے لباس ہونا تھا انہیں بھی وقت نے پتھر بنا دیا جن کو ہمارے عہد کا آدم شناس ہونا تھا پہن کے مجھ کو ایک روز تمنا کا لباس لہو لہو کوئی تصویر یاس ہونا تھا بھٹک رہے ہو کہاں دوست اپنے مرکز سے تمہیں تو فیضؔ کے دل کے ہی پاس ہونا تھا
hamein to saahil-e-dariyaa ki pyaas honaa thaa





