SHAWORDS
Faiz Rahil Khan

Faiz Rahil Khan

Faiz rahil Khan

Faiz rahil Khan

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

jism ki ret bhi muTThi se phisal jaaegi

جسم کی ریت بھی مٹھی سے پھسل جائے گی موت جب روح لیے گھر سے نکل جائے گی صبح آئے گی جنازے میں لیے سورج کو یاد ماضی میں اگر رات پگھل جائے گی اگ کے بس میں نہیں اپنی حفاظت کرنا تو فقط موم جلا آگ بھی جل جائے گی خانۂ دل میں بسی چشم لہو مانگیں ہے سوچتا تھا کہ کھلونے سے بہل جائے گی شام جب لوٹ گئی چھوڑ کے تنہا تجھ کو تا مجھے چھوڑ کے اب رات بھی ڈھل جائے گی اشک نکلے گا دھواں بن کے اسی محفل سے شمع جب کود کے اس آگ میں جل جائے گی پاؤں پھسلا تو گرے گی وہ کسی دلدل میں زندگی موت نہیں ہے کہ سنبھل جائے گی

غزل · Ghazal

dil mein tujh ko shumaar kar luun main

دل میں تجھ کو شمار کر لوں میں ہو اجازت تو پیار کر لوں میں اس خزاں کو سمیٹ لو تم تو موسم خوش گوار کر لوں میں عشق اگر جرم ہے تو جرم صنم بے سبب بے شمار کر لوں میں تم نے وعدہ کیا ہے آنے کا دو گھڑی انتظار کر لوں میں ساری دنیا کو جیت لوں پل میں تجھ پہ گر افتخار کر لوں میں ہاتھ حاصل سے پھر ملاؤں گا پہلے دریا تو پار کر لوں میں کیا ملاقات پھر کبھی ہوگی یا اسے یادگار کر لوں میں

غزل · Ghazal

yaad raaton mein aa gayaa koi

یاد راتوں میں آ گیا کوئی رات مجھ کو رلا گیا کوئی مجھ کو سینے سے مت لگا ساقی مجھ میں کانٹے بچھا گیا کوئی اے ہوا جا اسے خبر کر دے اپنا وعدہ نبھا گیا کوئی سب کو حصہ ملا تھا لیکن کیوں میرے حصے کو کھا گیا کوئی تیرے رونے کی ایک وجہ تو ہے مجھ کو یوں ہی رلا گیا کوئی میری غلطی نہیں ہے اے پتھر مجھ کو پاگل بنا گیا کوئی

غزل · Ghazal

subh likhti hai tiraa naam miri aankhon mein

صبح لکھتی ہے ترا نام مری آنکھوں میں قید تنہائی کی ہے شام میری آنکھوں میں نیند آتی ہے دعا دے کے چلی جاتی ہے اشک جب کرتا ہے آرام مری آنکھوں میں اب ترے نقش کف پا کو مٹانے خوشبو آئی ہے گردش ایام مری آنکھوں میں دو قدم ساتھ چلے تب تو بتاؤں اس کو ہے تری منزل گم نام مری آنکھوں میں تجھ کو اوروں سے چھپایا ہے ہمیشہ لیکن صاف دکھاتا ہے ترا نام مری آنکھوں میں پھر سے آغاز محبت میں کروں تو کیسے قید ہیں عشق کے انجام مری آنکھوں میں

غزل · Ghazal

qadam qadam pe khaDi hai havaa payaam liye

قدم قدم پہ کھڑی ہے ہوا پیام لیے کہ آ رہی ہے خزاں اپنا انتظام لیے کسی فقیر کا جس نے نہ احترام کیا وہ مسجدوں میں ملا مجھ کو احترام لیے ترے عذاب میں مر کر ترے دریچے سے میں جا رہا ہوں محبت کا انتقام لیے مجھے گلی میں دکھی ہے فقط ضیا یعنی چلی گئی ہے سیاست دعا سلام لیے مجھے بھی یاد کے جگنو پکارتے ہیں فیضؔ اندھیری رات میں اکثر کسی کا نام لیے

غزل · Ghazal

ghamon ki bhiiD ne kuchlaa hai mujh ko shaadmaani mein

غموں کی بھیڑ نے کچلا ہے مجھ کو شادمانی میں لگانا چاہتا تھا تشنگی کی آگ پانی میں ہر اک شے اڑ گئی میری ہواؤں کی روانی سے سمٹ کے رہ گئی خواہش وفاؤں کی جوانی میں ہمیشہ چشم میں رہنا مجھے اچھا نہیں لگتا میں رہنا چاہتا ہوں اے سمندر تیرے پانی میں تری بستی کے مجرے سے تری اوقات کیا پوچھوں گدھے بھی شیر بن جاتے اپنی میزبانی میں میں پڑھ کر ہوش کھو بیٹھا ترے قصے کو اے فرقت محبت کا نشہ ہے اس شب غم کی کہانی میں وہ پیلی اوڑھنی والی ابھی بھی دل میں رہتی ہے یہ لڑکا کھو گیا ہے اس کے رنگ زعفرانی میں وہ جس دن فیضؔ آئے گی میری چوکھٹ پہ ملنے کو اسی دن معجزہ ہوگا مری بھی زندگانی میں

Similar Poets