SHAWORDS
Fakhir Jalalpuri

Fakhir Jalalpuri

Fakhir Jalalpuri

Fakhir Jalalpuri

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

masaail sar uThaae chal rahe hain

مسائل سر اٹھائے چل رہے ہیں بھری برسات میں ہم جل رہے ہیں ہم ایسے سوختہ دل لوگ برسوں کسی کی آنکھ کا کاجل رہے ہیں ہجوم فصل گل ہے پھر بھی ہم لوگ ابھی کانٹوں پہ جیسے چل رہے ہیں نہ جانے کتنے شیشے کے مکاں میں ابھی فرہاد و مجنوں پل رہے ہیں تمناؤں کی منزل تک بہت سے ہماری راہ میں مقتل رہے ہیں کبھی ہم رنگ و خوشبو بن کے فاخرؔ کسی کے جسم کا صندل رہے ہیں

غزل · Ghazal

khizaan ki zad mein gul-e-tar hai kyaa kiyaa jaae

خزاں کی زد میں گل تر ہے کیا کیا جائے یہی چمن کا مقدر ہے کیا کیا جائے دل و نگاہ کو جس سے سکوں میسر تھا لہو لہو وہی منظر ہے کیا کیا جائے بلند و پست کا ہر امتیاز بے معنی عجیب وقت کا تیور ہے کیا کیا جائے خدا کا شکر ہے جس حال میں گزر جائے اک انتشار تو گھر گھر ہے کیا کیا جائے زباں سے پھول برستے ہیں گفتگو ایسی اور آستینوں میں خنجر ہے کیا کیا جائے جو اپنی ذات کی تاریکیوں میں گم ہے ابھی وہ صبح نو کا پیمبر ہے کیا کیا جائے کہاں تلک کوئی پرکھے کہ اب بہ صورت خیر قدم قدم پہ عجب شر ہے کیا کیا جائے کہاں کا جذبۂ حب وطن کہاں کا خلوص بس اقتدار کا چکر ہے کیا کیا جائے قدم قدم پہ ہے غوغائے برتری کا جنوں ہر ایک ایک سے بڑھ کر ہے کیا کیا جائے جو گل بدست تھے فاخرؔ کبھی ہمارے لئے انہیں کے ہاتھ میں پتھر ہے کیا کیا جائے

غزل · Ghazal

yuun tiri yaad mein kho gae

یوں تری یاد میں کھو گئے ہم تھے کیا اور کیا ہو گئے اک نئی صبح کا خواب ہم دیکھتے دیکھتے سو گئے شہد کی فصل سے کیا گلہ زہر تو آپ ہم بو گئے آخر شب مرے اشک غم داغ قلب و جگر دھو گئے کتنے فاخرؔ مرے سامنے کیا سے کیا کیا سے کیا ہو گئے

غزل · Ghazal

fitnon kaa kaarobaar hai aao duaa karein

فتنوں کا کاروبار ہے آؤ دعا کریں ہر سو اک انتشار ہے آؤ دعا کریں تہذیب رکھ رکھاؤ اور آداب زندگی نسلوں پہ جیسے بار ہے آؤ دعا کریں موج نسیم باد صبا کے لئے بھی اب ہر پھول جیسے خار ہے آؤ دعا کریں اک حق پرست عام نگاہوں میں ان دنوں جیسے گناہ گار ہے آؤ دعا کریں ہر ہر قدم پہ گلیوں میں اور شاہراہ پر تہذیب شرمسار ہے آؤ دعا کریں اکثر خطیب شہر کا ارشاد عالیہ لفظوں کا اک حصار ہے آؤ دعا کریں افسوس صرف لقمۂ تر کی ہوس میں آج انساں ذلیل و خوار ہے آؤ دعا کریں مال و منال جاہ و حشم کا بس اک جنوں اعصاب پر سوار ہے آؤ دعا کریں اپنا ضمیر بیچنے والا ہی آج کل لوگوں میں ذی وقار ہے آؤ دعا کریں مکر و فریب اور ریا کاریوں کا شغل اب وجہ افتخار ہے آؤ دعا کریں دھرتی پہ رہ کے کرتے ہیں بات آسمان کی یوں زیست سے فرار ہے آؤ دعا کریں اللہ رے حقوق و فرائض کا ہر عمل اک دوسرے پہ بار ہے آؤ دعا کریں فاخرؔ انا کی پیاس بجھانے کے واسطے ہر شخص بے قرار ہے آؤ دعا کریں

غزل · Ghazal

zamaana roz jise yunhi sangsaar kare

زمانہ روز جسے یوں ہی سنگسار کرے وہ اپنے زخم کہاں تک بھلا شمار کرے کوئی بتائے کہاں تک کوئی چمن زادہ چمن کو اپنا لہو دے کے لالہ زار کرے وہ جس نے صدیوں بہاروں کے رنگ دیکھے ہوں خزاں سے اپنے کو وہ کیسے ہم کنار کرے جو گھر سے نکلا ہو سچ بولنے کی نیت سے قدم قدم پہ وہ اب انتظار دار کرے امیر شہر کے ہاتھوں میں قسمتوں کے چراغ غریب اپنا کوئی کیسے کاروبار کرے ہو زخم زخم اگر جس کا لمحۂ امروز وہ کیسے مرہم فردا کا انتظار کرے جو لٹ گیا ہے فسادوں میں اب اسی کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ حالات سازگار کرے اسی کو امن کا اعزاز بھی میسر ہے کہ شہر شہر میں پیدا جو انتشار کرے شعور بخش دو ایسا چمن کی کلیوں کو جو پھول پھول کو شائستۂ بہار کرے غم حیات کا منزل شناس کیا ہوگا وہ آدمی جو رہ زیست سے فرار کرے خودی وہ دولت بیدار ہے جو دنیا میں گدا گری میں بھی انساں کو شہریار کرے وہی ہے نور بصیرت کا آئنہ فاخرؔ جو آنکھ آخر شب تجھ کو اشک بار کرے

Similar Poets