Fakhruddin Haziq
Fakhruddin Haziq
Fakhruddin Haziq
Ghazalغزل
aatish-e-gham se shab-e-gham qalb-e-muztar jal gayaa
آتش غم سے شب غم قلب مضطر جل گیا جس میں ارماں آپ کے رہتے تھے وہ گھر جل گیا جل گیا غم ہوتے ہی پیدا دل پر سوز میں ہے یہ وہ آتش کدہ جس میں سمندر جل گیا آتش غم نے جلا کر دل جگر کی لی خبر تیرے گھر کے ساتھ ہمسایہ کا گھر بھی جل گیا اس لب معجز نما کا وصف سن کر بزم میں منکر اعجاز سلطان پیمبر جل گیا کیوں نہ مضموں اس لب رنگیں کے حاذقؔ لا سکا طائر فکر رسا کا کیا کوئی پر جل گیا
'iisaa se bhi ab is kaa mudaavaa nahin hotaa
عیسیٰ سے بھی اب اس کا مداوا نہیں ہوتا بیمار ترے عشق کا اچھا نہیں ہوتا کم بخت دل اپنا بھی تو اپنا نہیں ہوتا سچ ہے کوئی مشکل میں کسی کا نہیں ہوتا آتے ہوئے دل میں مرے شرماتے ہو صاحب دشمن سے تو محفل میں بھی پردہ نہیں ہوتا کب پاؤں میں مہندی نہیں لگتی شب وعدہ کب دل میں مرے خون تمنا نہیں ہوتا پار اس سے اترتے نہیں دیکھا ہے کسی کو دریائے محبت کا کنارا نہیں ہوتا تم اس کو اگر شربت دیدار نہ دیتے بیمار تمہارا کبھی اچھا نہیں ہوتا وہ وعدے عدو کے ہیں کہ ہوتے ہیں وفا سب یہ وعدہ ہمارا ہے کہ پورا نہیں ہوتا کہتے ہیں شب وصل نہ بولے کوئی ہم سے لو آج بھی منشا مرے دل کا نہیں ہوتا آتی نہ نظر ان میں اگر شان خدائی حاذقؔ تو بتوں کا کبھی شیدا نہیں ہوتا
sanvaari zulf hai choTi gundhi hai tan ke baiThe hain
سنواری زلف ہے چوٹی گندھی ہے تن کے بیٹھے ہیں بگاڑیں گے کسی کا گھر جو وہ یوں بن کے بیٹھے ہیں عدو کو گالیاں ہم دیں تو پھر دیکھو زباں ان کی ابھی تو بے دہن ہیں چپ ہیں وہ بت بن کے بیٹھے ہیں جگہ کس کس کو دوں کہہ دو نہ آئیں درد و رنج و غم مرے دل میں ہزاروں تیر اس چتون کے بیٹھے ہیں بلا سے کوئی مر جائے وہ کیوں آئیں عیادت کو ہنسی لب پر خوشی دل میں ہے گھر دشمن کے بیٹھے ہیں جھلائیں گے یوں ہی باتوں میں وعدہ کر چلے پورا عبث مشتاق جلوہ منتظر ساون کے بیٹھے ہیں امیرؔ و داغؔ غزلیں اس زمیں میں کہہ گئے اچھی ہمیں آتا ہی کیا حاذقؔ ہے شاعر بن کے بیٹھے ہیں
likhun vasf aap ki patli kamar kaa
لکھوں وصف آپ کی پتلی کمر کا اگر خامہ ملے عنقا کے پر کا عبث ہے موشگافی شاعروں کی ملا کس کو نشاں اس کی کمر کا جسے کہتے ہیں خورشید قیامت وہ پھاہا ہے مرے زخم جگر کا اٹھا تھا نوح کا طوفان جس سے کرشمہ تھا ہماری چشم تر کا نہ آنا تھا نہ آئے وہ مرے گھر برا ہو نالہ ہائے بے اثر کا سمجھ لینا کہ میری موت آئی اگر پہلو سے تو اے یار سرکا جو گالی دی لب شیریں سے تو نے مزا مجھ کو ملا قند و شکر کا زمانہ منحرف ہے اہل فن کا نہیں ہے قدرداں کوئی ہنر کا جو ہے برہان پور اک شہر مشہور وطن ہے حاذقؔ خستہ جگر کا





