
Faqeeh Haidar
Faqeeh Haidar
Faqeeh Haidar
Ghazalغزل
جسم میں گونجتا ہے روح پہ لکھا دکھ ہے تو مری آنکھ سے بہتا ہوا پہلا دکھ ہے کیا کروں بیچ بھی سکتا نہیں گنجینۂ زخم کیا کروں بانٹ بھی سکتا نہیں ایسا دکھ ہے یہ تب و تاب زمانے کی جو ہے نا یارو کیجیے غور تو لگتا ہے کہ سارا دکھ ہے تم مرے دکھ کے تناسب کو سمجھتے کب ہو جتنی خوشیاں ہیں تمہاری مرا اتنا دکھ ہے ایسا لگتا ہے مرے ساتھ نہیں کچھ بھی اور ایسا لگتا ہے مرے ساتھ ہمیشہ دکھ ہے مجھ سے مت آنکھ ملاؤ کہ مری آنکھوں میں شہر کی زرد گھٹن دشت سا پیاسا دکھ ہے لے گئے لوگ وہ دریائے جواں اپنے ساتھ اور مرے ہاتھ جو آیا ہے وہ صحرا دکھ ہے کیا بتاؤں کہ لیے پھرتا ہوں دکھ کتنے قدیم تم سمجھتی ہو فقط مجھ کو تمہارا دکھ ہے اس کے لہجے میں تھکن ہے نہ ہی آثار مرگ اس کی آنکھوں میں مگر سب سے انوکھا دکھ ہے ہم کسی شخص کے دکھ سے نہیں ملتے حیدرؔ جو زمانے سے الگ ہے وہ ہمارا دکھ ہے
jism mein gunjtaa hai ruuh pe likkhaa dukh hai
کہیں تھی راکھ کہیں تھا دھواں کہیں تھی آگ فلک ڈھکا تھا ستاروں سے جب زمیں تھی آگ جمے ہوئے لب و رخسار بھی دہک رہے تھے حصار موسم برفاب میں حسیں تھی آگ حدود جسم سے باہر نکل کے سرد لگی قیود جسم میں تھی جب تک تھی بر تریں تھی آگ عداوتوں میں نئے رنگ بھر رہا تھا وہ بغل میں سانپ تھے اور زیر آستیں تھی آگ ترا ٹھٹھرتا بدن بھی بجھا سکا نہ مجھے کچھ ایسے بر سر صحن بدن مکیں تھی آگ شب وصال کا احوال پوچھنا مت دوست پس قبائے غضب عطر عنبریں تھی آگ کمال کن نے رکھا پیاس میں جمال آب نہیں تھا جب کہیں پانی کہیں نہیں تھی آگ سفر کا بوجھ برابر رہا ہے دونوں پر جہاں جہاں بھی تھا پانی وہیں وہیں تھی آگ وجود لمس کی لذت سے نا شناس رہا وہ ہاتھ سرد تھا حیدرؔ مری جبیں تھی آگ
kahin thi raakh kahin thaa dhuaan kahin thi aag
میں خوش ہوا کہ بود میں رکھا گیا مجھے حالانکہ بس قیود میں رکھا گیا مجھے خدشات کی صلیب پہ کھینچی گئی حیات حالات کے جمود میں رکھا گیا مجھے جس سمت بھی گیا میں اجل میرے ساتھ تھی یعنی مری حدود میں رکھا گیا مجھے برفاب خواب جب مری آنکھوں میں آ بسے اک حشر کی نمود میں رکھا گیا مجھے دنیا کو دیکھتا ہوں یوں حیرت سے روز و شب جیسے ابھی وجود میں رکھا گیا مجھے بے ساز گنگنایا گیا مجھ کو ہر گھڑی بے تال ہی سرود میں رکھا گیا مجھے تو کیا بقا فریب زدہ حرف ہے فقیہ تو کیا فقط نبود میں رکھا گیا مجھے
main khush huaa ki buud mein rakkhaa gayaa mujhe
پھٹی مشکیں لیے دن رات دریا دیکھنے والے بیاباں بن گئے پانی زیادہ دیکھنے والے یہاں کوئی مسلسل دیکھنے والا نہیں تجھ کو ہمارے ساتھ چل ہم ہیں ہمیشہ دیکھنے والے تمہارے حسن سے انصاف کرنے کا تقاضا ہے تمہیں دیکھیں زیادہ سے زیادہ دیکھنے والے عمارت عشق کی تنہا کھڑی ہوگی کہاں تم سے ہمیں بھی ساتھ رکھو ہم ہیں نقشہ دیکھنے والے ہمارے سامنے تعریف کرتا کون کوفے کی سبھی کو علم تھا ہم ہیں مدینہ دیکھنے والے بچھڑتے وقت مڑ کر اس لیے دیکھا نہیں میں نے کئی منظر نہیں ہوتے دوبارہ دیکھنے والے کسی نے ما سوائے خاک دل سے کچھ نہیں پایا بہت سے لوگ آئے یہ علاقہ دیکھنے والے
phaTi mashkein liye din-raat dariyaa dekhne vaale
ہجر میں جو لی گئی تصویر ہے یہ ہماری آخری تصویر ہے موت بھرتی جا رہی ہے اپنے رنگ زندگی مٹتی ہوئی تصویر ہے تم جسے کہتے ہو جسموں کی قطار اصل میں دیوار کی تصویر ہے یار لوگوں سے گلے ملنا بھی کیا کوئی پتھر ہے کوئی تصویر ہے مٹ گئی تصویر پہلے عشق کی سامنے اب دوسری تصویر ہے جتنی تصویریں ہیں میرے سامنے سب سے اچھی آپ کی تصویر ہے کچھ نہیں بدلا تمہارے بعد بھی زندگی تصویر تھی تصویر ہے روح نے رکھا ہوا ہے سب بھرم ورنہ ہر اک آدمی تصویر ہے ڈھل گئی ہے پیاس میری نقش میں یہ جو پانی پر بنی تصویر ہے ہاتھ میں ٹکڑے خطوں کے ہیں فقیہ آنکھ میں جلتی ہوئی تصویر ہے
hijr main jo li gai tasvir hai





