SHAWORDS
F

Faraz Hasanpuri

Faraz Hasanpuri

Faraz Hasanpuri

poet
13Ghazal

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

jo meraa haal hai vo us kaa haal thoDai hai

جو میرا حال ہے وہ اس کا حال تھوڑئی ہے اسے بچھڑنے کا کوئی ملال تھوڑئی ہے تو بے وفائی پہ اپنی نہ اس قدر اترا فریب دینا کسی کو کمال تھوڑئی ہے ترا فراق بھی اور مفلسی کے صدمے بھی ہماری جان کو بس اک وبال تھوڑئی ہے کہاں یہ چاند کہاں تیرا حسن و رنگ جمال ترے بدن کی طرح اس کا ڈھال تھوڑئی ہے جناب ایک کے بعد ایک غم ملا ہے ہمیں ہمارے واسطے یہ اچھا سال تھوڑئی ہے زمانہ ہو گیا ترک تعلقات ہوئے فرازؔ اب ان سے مری بول چال تھوڑئی ہے

غزل · Ghazal

vo roz nayaa fitna uThaane pe lagaa hai

وہ روز نیا فتنہ اٹھانے پہ لگا ہے کم ظرف ہے ذات اپنی دکھانے پہ لگا ہے میں چاہتا ہوں ختم ہو یہ آپسی نفرت وہ ہے کہ فقط بات بڑھانے پہ لگا ہے دشمن کو تڑپتا ہوا چھوڑ آیا ہوں میں بھی ہر تیر مرا جا کے نشانے پہ لگا ہے حق بات کی تائید کوئی جرم ہو جیسے ہر شخص مجھے آنکھیں دکھانے پہ لگا ہے جس شخص کی اپنی کوئی پہچان نہیں ہے وہ نام و نشاں میرا مٹانے پہ لگا ہے میں اتنا پریشان تو خود سے بھی نہیں تھا جو صدمہ ترے چھوڑ کے جانے پہ لگا ہے ناکام تھا ناکام ہے ناکام رہے گا بے کار یہ دل اس کو بھلانے پہ لگا ہے انصاف کی امید رکھوں کس سے سلیمانؔ منصف مرے قاتل کو بچانے پہ لگا ہے

غزل · Ghazal

us taraf ahl-e-hasad hain jo bujhaate hain charaagh

اس طرف اہل حسد ہیں جو بجھاتے ہیں چراغ اس طرف ہم ہیں چراغوں سے جلاتے ہیں چراغ چین ماں باپ کی آنکھوں کو نہیں آتا ہے جب تلک لوٹ کے گھر میں نہیں آتے ہیں چراغ یہ ترقی ہے کہ تہذیب کا گرتا معیار آنکھیں اس دور میں سورج سے ملاتے ہیں چراغ اس طرف وہ بھی پریشاں ہیں محبت کر کے رات بھر ہم بھی جلاتے ہیں بجھاتے ہیں چراغ میں ضعیفی کے اندھیروں میں پڑا ہوں اپنے کب تلک دیکھو مرا ساتھ نبھاتے ہیں چراغ سب کی فطرت میں نہیں ہوتا اجالے کرنا اپنے گھر کو بھی کبھی آگ لگاتے ہیں چراغ ہو گئی خاک محبت کی کہانی کب کی اور ہم آج بھی ماضی کے جلاتے ہیں چراغ ہم سے آتی نہیں نفرت کی تجارت اے فرازؔ ہم سخن ور ہیں محبت کے جلاتے ہیں چراغ

غزل · Ghazal

mohabbat kaa ye jazba marne kaa naa hai

محبت کا یہ جذبہ مرنے کا نا ہے وہ اب میرے دل سے اترنے کا نا ہے کہاں اس فریبی کی باتوں میں آئے وہ جو کہہ رہا ہے وہ کرنے کا نا ہے تہتر گروہوں میں جب بنٹ گئے ہم تو شیرازہ اپنا بکھرنے کا نا ہے ابھی تو شروعات ہے عاشقی کی ابھی بھوت سر سے اترنے کا نا ہے تری میٹھی باتوں میں چپکے تو ہے دل یہ کیا شرط ہے تو مکرنے کا نا ہے جدائی کے صدمے ہیں بس چار دن کے کسی کے لئے کوئی مرنے کا نا ہے اگر بھول سکتا بھلا دیتا اب تک تری یاد کا زخم بھرنے کا نا ہے تو جب اتنی اونچی اڑانیں بھرے گا تو حاسد ترے پر کترنے کا نا ہے بلا کا وہ ہشیار سمجھے ہے خود کو مگر میرے آگے ٹھہرنے کا نا ہے وہ ہے بے وفا تو کوئی اس سے کہہ دے فرازؔ اس کے صدمے میں مرنے کا نا ہے

غزل · Ghazal

aansuon se hai libaas apnaa ye tar dekh liyaa

آنسوؤں سے ہے لباس اپنا یہ تر دیکھ لیا کیسا ہوتا ہے محبت کا سفر دیکھ لیا تم بھی ان کے ہی دوانوں میں گنے جاؤ گے ان کی صورت کو اگر ایک نظر دیکھ لیا مفلسی تیری عنایت ہے یہ تیرا ہے کرم جو نہ دیکھا تھا کبھی آج وہ در دیکھ لیا ہم کہیں اور بھی دل اپنا لگا لیتے مگر کوئی تم سا نہ ملا سارا نگر دیکھ لیا راہ مشکل تھی پر آسان ہوئی جاتی تھی میں نے ماں تیری دعاؤں کا اثر دیکھ لیا میری تصویر کو سینے سے لگاتے ہو تم سوچو کیا ہوگا زمانے نے اگر دیکھ لیا دوستی کا مری انجام نہ جانے کیا ہو آج اس نے مرا ٹوٹا ہوا گھر دیکھ لیا غیر کا نام ہتھیلی پہ لکھا ہے تیری میں نہیں ہوں ترا منظور نظر دیکھ لیا حال بد میں بھی فرازؔ اس نے نہ پوچھا ہم کو کتنی رکھتا ہے ہماری وہ خبر دیکھ لیا

غزل · Ghazal

mustaqil ranj-o-alam toD ke rakh dete hain

مستقل رنج و الم توڑ کے رکھ دیتے ہیں اچھے اچھوں کو یہ غم توڑ کے رکھ دیتے ہیں لاکھ باطل کے ستم توڑ کے رکھ دیتے ہیں اہل توحید صنم توڑ کے رکھ دیتے ہیں دور حاضر میں رقیبوں کی ضرورت کیا ہے دوستوں ہی کے کرم توڑ کے رکھ دیتے ہیں پالا جاتا ہے بڑے ناز سے جن کو اکثر وہی بیٹے تو بھرم توڑ کے رکھ دیتے ہیں غالبؔ و میرؔ سے کہنے کو بچا ہی کیا ہے پھر بھی کچھ لوگ قلم توڑ کے رکھ دیتے ہیں ان حسینوں پہ یقیں کرنا حماقت ہے فقط یہ تو ہر عہد و قسم توڑ کے رکھ دیتے ہیں ہم نے تو فتح کے لہرائے وہاں بھی پرچم حوصلے بھی جہاں دم توڑ کے رکھ دیتے ہیں نیندیں اڑ جاتی ہیں دل ڈوبنے لگتا ہے فرازؔ بے وفاؤں کے ستم توڑ کے رکھ دیتے ہیں

Similar Poets