Fareed Ishrati
Fareed Ishrati
Fareed Ishrati
Ghazalغزل
hai daagh daagh miraa dil magar malul nahin
ہے داغ داغ مرا دل مگر ملول نہیں تمام عمر کا رونا مجھے قبول نہیں وہ گفتگو جو نگاہوں سے ہوتی رہتی ہے حدیث نرگس مستانہ ہے فضول نہیں بہت سے پھول ہیں دامن میں آپ کے لیکن جسے ہم اپنا کہیں ایسا کوئی پھول نہیں وہ ایک بت جسے کہتے ہیں شاہکار جمیل صنم کدے کا خدا ہے مگر رسول نہیں سراغ جادۂ منزل جو دے گیا ہے فریدؔ حنا کا رنگ ہے وہ راستے کی دھول نہیں
kuchh un ki jafaa un kaa sitam yaad nahin hai
کچھ ان کی جفا ان کا ستم یاد نہیں ہے غمگین ہوں لیکن کوئی غم یاد نہیں ہے دلدادۂ اصنام ہے فطرت مری لیکن تھا ساتھ کبھی کوئی صنم یاد نہیں ہے اپنوں کی عنایات کا ممنون ہوں ایسا غیروں کا مجھے کوئی ستم یاد نہیں ہے پایا ہے نشاں جب سے تری راہ گزر کا کیسی ہے رہ دیر و حرم یاد نہیں ہے لایا ہے کہاں یہ غم ایام فریدؔ اب بخشا تھا کبھی اس نے بھی غم یاد نہیں ہے
jalaa ke daaman-e-hasti kaa taar taar uThaa
جلا کے دامن ہستی کا تار تار اٹھا کبھی جو نالۂ غم دل سے شعلہ بار اٹھا خیال و فکر و تمنا کا خون چھپ نہ سکا زباں خموش تھی لیکن لہو پکار اٹھا فلک پہ جب بھی حقائق کی سرخیاں ابھریں زمیں سے کہنہ روایات کا غبار اٹھا رواں دواں ہے رگ سنگ میں لہو کی طرح وہ زندگی کا تلاطم جو بار بار اٹھا رہ حیات میں جب ڈگمگائے میرے قدم مرا ہی نقش کف پا مجھے پکار اٹھا فریب وعدۂ فردا کا ذکر کیا کیجے وہ معتبر ہی تھے کب جن کا اعتبار اٹھا فریدؔ اہل گلستاں بھی ہوش کھو بیٹھے کچھ اس ادا سے حجاب رخ بہار اٹھا
dil mein shagufta gul bhi hain raushan charaagh bhi
دل میں شگفتہ گل بھی ہیں روشن چراغ بھی کیا چیز ہیں یہ سوز محبت کے داغ بھی ٹوٹا تھا ایک جام سفالی نہ جانے کیوں رندوں نے توڑ ڈالے منقش ایاغ بھی تدبیر چارہ سازیٔ دل سوچنے کے بعد رہتا ہے بد گماں مرے دل سے دماغ بھی ہم وہ نہیں جو موت کے پردوں میں کھو گئے ہم نے تو زندگی کا لگایا سراغ بھی ہم نے تو راز عشق چھپایا مگر فریدؔ چارہ گروں نے ڈھونڈھ لیے دل کے داغ بھی
zauq-e-parvaaz mein saabit huaa sayyaaron se
ذوق پرواز میں ثابت ہوا سیاروں سے آسماں زیر زمیں ہے مری یلغاروں سے کیسے قاتل ہیں جنہیں پاس وفا ہے نہ جفا قتل کرتے ہیں تو اغیار کی تلواروں سے رہ کے ساحل پہ ہو کس طرح کسی کو معلوم کشتیاں کیسے نکل آتی ہیں منجدھاروں سے گل ہوئے جاتے ہیں جلتے ہوئے دیرینہ چراغ آئینہ خانوں کی گرتی ہوئی دیواروں سے ہم محبت کو بس اتنا ہی سمجھتے ہیں فریدؔ جوئے شیر آئی ہے بہتی ہوئی کہساروں سے





