
Farhana Ambar
Farhana Ambar
Farhana Ambar
Ghazalغزل
وحشت جاں کا سلسلہ بولا چپ رہی میں تو آئنہ بولا لوگ پل بھر میں بھول جاتے ہیں ایک منزل سے راستہ بولا حشر کے دن مری شفاعت کو ان کی نسبت کا واسطہ بولا لفظ جب بے زبان ہونے لگے دل سے پھر دل کا رابطہ بولا میں نے اردو میں بات کی جب بھی سب زبانوں کا ذائقہ بولا منزلیں پاس آ گئیں چل کر جب مسافر کا حوصلہ بولا ہم کو گمراہ کر گیا رہبر بیچ رستے میں قافلہ بولا دل سے جاتی نہیں ہے یاد تری سینکڑوں بار تخلیہ بولا وہ کسی روز چھوڑ جائے گا بارہا دل سے وسوسہ بولا سب ردیفوں کو مات دی امبرؔ ایسا بھرپور قافیہ بولا
vahshat-e-jaan kaa silsila bolaa
4 views
بیچ کر آنکھیں کمائی روشنی یہ ہمیں کس سمت لائی روشنی اپنا سورج خود بنا لیں گے مگر ہم نہیں لیں گے پرائی روشنی کی نگہبانی دیے کی رات دن خون دل سینچا بنائی روشنی ان کے آنے کی خبر جب بھی ملی ہم نے رستے میں بچھائی روشنی اونگھتی دم توڑتی اک رات میں تیری آنکھوں نے دکھائی روشنی نیلگوں کو سرخ ہم نے کر دیا کل افق پر یوں گھمائی روشنی عشق نے یوں خال و خد چمکا دئے جیسے رگ رگ میں سمائی روشنی اپنے من کو ہی ٹٹولا رات دن اپنے اندر ہی جگائی روشنی ایک تارا بھر لیا تھا مانگ میں اور دامن میں چھپائی روشنی توڑ کر سپنوں کی ساری بستیاں کس نے ملبے سے اٹھائی روشنی علم کے بدلے جہالت مول لی ہائے تم نے بیچ کھائی روشنی جب ہوئی نظر کرم اس چاند کی روشنی میں پھر نہائی روشنی سچ سنا ہے شاعری الہام ہے شعر نے دل میں جگائی روشنی ہم نے عنبرؔ آنے والوں کے لیے کتنی مشکل سے بچائی روشنی
bech kar aankhein kamaai raushni
4 views
سانس لیتے جوان لمحوں کی کوئی سمجھے زبان لمحوں کی کون دیتا رہا تواتر سے صحن دل میں اذان لمحوں کی اب کے آنا تو پھر یہیں رہنا کیوں بنوں میزبان لمحوں کی جب وہ محفل میں روبرو آئیں روک لینا اڑان لمحوں کی ہائے وہ اک نظر مری جانب جب ہوئی مہربان لمحوں کی وقت کے خار دار جنگل میں ہم نے باندھی مچان لمحوں کی ہم کو صدیوں اداس رکھے گی دکھ بھری داستان لمحوں کی تم مری زیست کا اثاثہ ہو تم عطا ہو مہان لمحوں کی وہ ہے پہلو میں اس گھڑی عنبرؔ اوج پر ہے اٹھان لمحوں کی
saans lete javaan lamhon ki
4 views
جو بھی کہنا ہے سب کہوں گی میں اب نہ بولی تو کب کہوں گی میں حالت زار اپنی کہنی ہے پاس بیٹھو گے تب کہوں گی میں چاند بن کر فلک پہ چمکے گا شعر جو نصف شب کہوں گی میں خوف دنیا نکال کر دل سے جو نہ کہہ پائی اب کہوں گی میں تیرے دل تک ضرور پہنچے گی بات شعروں میں جب کہوں گی میں میں روایات کی امیں ٹھہری جو لگے گا عجب کہوں گی میں اتنی کم ظرف تو نہیں عنبرؔ خود ہی اپنی طلب کہوں گی میں
jo bhi kahnaa hai sab kahungi main
3 views
روشنی کا استعارہ اور تو ساتھ ہے اک چاند تارا اور تو رات کتنی دیر تک بیٹھے رہے میں سمندر کا کنارا اور تو آنکھ کی پتلی میں کب سے قید ہے ایک دل کش سا نظارہ اور تو تو ہی بتلا دے کسے پہلے پڑھوں پاس ہے تازہ شمارہ اور تو ہے عجب سی بے بسی کا سامنا دور ہے مجھ سے سہارا اور تو کس قدر عنبرؔ حسیں احساس ہے وقت بھی میرا ہے سارا اور تو
raushni kaa isti'aara aur tu
2 views
تیرے دربار میں پڑے ہوئے ہیں لفظ بے کار میں پڑے ہوئے ہیں مفلسی کھا گئی مکینوں کو رنج گھر بار میں پڑے ہوئے ہیں ان کو دنیا جہاں سے کیا مطلب جو ترے پیار میں پڑے ہوئے ہیں ہے محبت کو عمر تھوڑی اور لوگ تکرار میں پڑے ہوئے ہیں جن کو دیکھا تھا قصر شاہی میں آج بازار میں پڑے ہوئے ہیں ہم نے آنکھوں سے کہہ دیا سب کچھ آپ اظہار میں پڑے ہوئے ہیں رفعتوں کے جو راز ہیں سارے تختۂ دار میں پڑے ہوئے ہیں بادشاہی ہے میری ٹھوکر پر تاج انکار میں پڑے ہوئے ہیں لوگ خوشیاں منائیں اپنوں میں ہم کہ آزار میں پڑے ہوئے ہیں ہم نے معیار شعر کو بخشا لوگ مقدار میں پڑے ہوئے ہیں سات سر ساز نغمگی عنبرؔ تیری گفتار میں پڑے ہوئے ہیں
tere darbaar mein paDe hue hain
2 views





