
Farhat Hussain Khushdil
Farhat Hussain Khushdil
Farhat Hussain Khushdil
Ghazalغزل
tiri haqiqat-e-pinhaan se naa-shanaas rahaa
تری حقیقت پنہاں سے ناشناس رہا اگرچہ تو مری شہ رگ کے آس پاس رہا ترے کمال کی وسعت میں کھو گیا ہوں میں مرا وجود ترے فن کا اقتباس رہا یہ روح و جسم کا رشتہ عجیب رشتہ ہے ازل سے ساتھ رہا پھر بھی ناشناس رہا ترے ہی پیکر سیمیں سے جگ ہوا روشن ترے ہی نور سے عالم میں انعکاس رہا حیات و موت کا آپس میں ہے تعلق کیا میں تا حیات یہی سوچ کر اداس رہا عطا ہوئی ہے مجھے ایک فقر کی چادر اگرچہ دہر میں یہ جسم بے لباس رہا مرے عروج کا آخر کہیں زوال نہ ہو بس اس خیال سے اکثر میں بد حواس رہا وہ کیسے سمجھے گا تیرے مزاج کو خوش دلؔ ترے مزاج سے یکسر جو ناشناس رہا
miri nazar mein takhayyul ke baab aur bhi hain
مری نظر میں تخیل کے باب اور بھی ہیں یہ سچ ہے چرخ ادب پر شہاب اور بھی ہیں مبارک ان کو نئی فکر اور نیا اسلوب ہمارے پیش نظر تو نصاب اور بھی ہیں نظر شناس ہوں میں سرحد تغزل کا مرے چمن میں مہکتے گلاب اور بھی ہیں خیال یار کی محفل ہو یا دیار غزل ہر ایک بزم میں دور شراب اور بھی ہیں نقیب امن کے آداب کون سمجھے گا گلوں کے ہار میں خار گلاب اور بھی ہیں شکست و ریخت کے خوگر ہوئے تو دل نے کہا قلم میں شور سوال و جواب اور بھی ہیں شعور ذات سے احساس کرب جاگا تھا لہو کے چھینٹے بدن پر جناب اور بھی ہیں کھڑا تھا وقت کے ملبوس کو لئے میں بھی معاشرے پہ تشدد کے خواب اور بھی ہیں جھلستی دھوپ میں تنہا نہیں ہے تو خوش دلؔ کہ اس زمانے میں ذی اضطراب اور بھی ہیں
ham-safar lamha-e-maazi thaa 'azaabon ki tarah
ہم سفر لمحۂ ماضی تھا عذابوں کی طرح پھر بھی پرکیف تھا نایاب کتابوں کی طرح اس کی یادوں سے محبت کی مہک آتی ہے جو لٹاتا رہا خوشبو کو گلابوں کی طرح تم تو بس زخم لگاتے ہو چلے جاتے ہو اور ہم زخم کو لکھتے ہیں حسابوں کی طرح وسعت فکر و تصور میں خیالوں کے پرند اڑتے پھرتے ہیں سبک سار سحابوں کی طرح اب بھی ملتا ہے وہ یادوں کے سفر میں خوش دلؔ جو مرے شہر سے گزرا کبھی خوابوں کی طرح
qalam ki nok se jab jab bahaa lahu meraa
قلم کی نوک سے جب جب بہا لہو میرا یقیں کرو کہ ہوا سرنگوں عدو میرا مری غزل میں تھی فکر و عمل کی گیرائی سمجھ رہا تھا وہ ہر لفظ ہو بہو میرا وہ میری تشنگیٔ پر اثر کو کیا جانے کہ جس نے چھین لیا ہاتھ سے سبو میرا مری غزل کا ہر انداز ہے جدا سب سے کہ سب کو بھایا ہے انداز گفتگو میرا نظر میں اب بھی ہے خوش دلؔ غزل کی رعنائی غزل کے شعر پہ سر دھنتا ہے عدو میرا
zamaane ke agar afkaar paDhnaa
زمانے کے اگر افکار پڑھنا تو انسانوں کے بھی کردار پڑھنا بصیرت کی نگاہیں رکھنے والو لکھا ہے کیا پس دیوار پڑھنا اگر پڑھنا ہے سب کے روبرو تو ہر اک چہرے کے تم آزار پڑھنا مرے چہرے پہ جو لکھا ہوا ہے کبھی فرصت ہو تو اک بار پڑھنا اندھیرا تھا اجالا کیسے آیا جلا کیا شہر تم اخبار پڑھنا سنو خوش دلؔ نہ ڈرنا تم کسی سے حقائق تم سر بازار پڑھنا
yaa-rab kitaab-e-fikr-o-takhayyul kaa kyaa karun
یا رب کتاب فکر و تخیل کا کیا کروں غزلیں کہوں یا قصے کہانی لکھا کروں خوشیاں تو چند تھیں جنہیں انگلی پہ گن چکے پر غم تو بے شمار ہیں ان کا میں کیا کروں تشکیک کے حصار میں آئے نہ میری ذات جو بات بھی کہوں وہ مناسب کہا کروں پانی سا بہہ رہا ہے یہاں خون آدمی ہے اذن حال خون کو پانی لکھا کروں ہو جس میں کیف خواب بھی اور نیند کا مزہ ایسی غزل میں نت نئی ہر شب کہا کروں اب تو خیال یار میں برپا ہیں شورشیں خوش دلؔ تو یہ بتا کہ میں اب کیا دعا کروں





