SHAWORDS
F

Farhat Nadir Rizwi

Farhat Nadir Rizwi

Farhat Nadir Rizwi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

gulon kaa rang tapish khushbuein samundar khinch

گلوں کا رنگ تپش خوشبوئیں سمندر کھینچ کچھ اس طرح سے مری آرزو کا پیکر کھینچ نکل ہی جائے نہ دم اپنا آہ سوزاں سے زباں پہ لفظ تو رکھ اس طرح نہ تیور کھینچ اٹک رہا ہے مرا دم نکل نہ پائے گا ستم شعار جگر سے مرے یہ خنجر کھینچ محاذ جنگ پہ تیری شکست آخر ہے حصار کر لے خود اپنا تمام لشکر کھینچ کئی ستارے کھنچے آئیں گے سلامی کو تو اس جگہ سے ذرا ہٹ کے اپنا محور کھینچ تجھے تو کھینچ نہ پائی حیات کی فرحتؔ جو تجھ سے ہو سکے یہ زندگی کا پتھر کھینچ

غزل · Ghazal

kuchh sukun paaun jo is sahn-e-makaan se chhuTun

کچھ سکوں پاؤں جو اس صحن مکاں سے چھوٹوں پھر نیا ایک سفر ہو میں جہاں سے چھوٹوں سارے احساس سے ہر سود و زیاں سے چھوٹوں ہو کے خاموش گناہان بیاں سے چھوٹوں تند خو تازی بے باک خراماں کی قسم کاش رفتار و رم و رخش رواں سے چھوٹوں مضمحل ہو کے ٹھہرنے نہیں دیتی سرعت کاش آزاد ہو توسن کہ عناں سے چھوٹوں ذکر کچھ دل کا نہ کچھ بات تمناؤں کی خشک آنکھیں ہوں میں ایذائے فغاں سے چھوٹوں رقص ہو آتش سیال کا اور خاک ہوں میں گردش شام و سحر دہر و زماں سے چھوٹوں طائر روح ہر اک گوشۂ جاں دیکھتا ہے جسم سے جان سے کس در سے کہاں سے چھوٹوں چھوٹوں فرحتؔ سے اذیت سے سکوں سے غم سے ناتوانی سے سہی تاب و تواں سے چھوٹوں

غزل · Ghazal

rivaaq-e-kahkashaan se bhi ho aage tak guzar teraa

رواق کہکشاں سے بھی ہو آگے تک گزر تیرا کہ تیرا عشق ہے منزل تری عزم سفر تیرا رمیدہ وسعتیں ہوں تندیٔ رفتار سے تیری بری ہو تنگیٔ افکار سے آہوئے سر تیرا زمانہ ٹھہر کر پوچھے تیری رفتار و سرعت سے مجھے بھی ساتھ لیتا چل ارادہ ہے کدھر تیرا حیات مختصر اور بیکرانی سیل امکاں کی رقم ہوگا سر افلاک قصہ معتبر تیرا کسی بحر محیط بیکراں کی آرزو میں ہے یہ طوفانوں کی موجوں میں سنورنے کا ہنر تیرا میان آب و ل اک برق ہے شعلہ ہے شبنم ہے یہ دل یہ قطرۂ خوں یہ وجود مختصر تیرا تڑپ کہ جستجو کی راہ میں یہ بھی عبادت ہے تری ہر آہ سوزاں ہے پیام پر اثر تیرا مسافر ہے مسافت کا صلہ ہے آبلہ پائی بھلا کب ساتھ چھوڑے گی یہ گردش عمر بھر تیرا جلن آنکھوں میں سوکھے لب غبار زندگی رخ پر تھکن کی داستاں کہتا ہے حلیہ سر بسر تیرا کبھی رکھ کر کسی زانو پہ سر آرام بھی کر لی گھنی ہے چھاؤں کیوں کھلتا نہیں بند کمر تیرا چراغ آرزو کی لو بھڑکنے دے ابھی فرحتؔ وہی تنہا شب فرقت میں ہوگا ہم سفر تیرا

غزل · Ghazal

zaraa si raat aur itnaa savaab kaafi hai

ذرا سی رات اور اتنا ثواب کافی ہے مری نظر کو فقط تیرا خواب کافی ہے میں چاہتی نہیں مجھ کو ورق ورق لکھ دے سر ورق ہے جو اک انتساب کافی ہے میں کیا کروں گی یہ اتنی کہانیاں لے کر مرے لیے تو فقط اک کتاب کافی ہے میں اپنی پیاس کو محسوس کر کے جیتی ہوں سمندروں کی طلب کیا سراب کافی ہے میں تجھ سے ملتی ہوں فرحتؔ تو خوف آتا ہے کہ مجھ پہ تیرا پرانا حساب کافی ہے نہیں ہیں لفظ میسر تو پھر تأثر بھیج کسی بھی شکل میں ہو اک جواب کافی ہے خیال یار کہاں ہے کوئی بتائے اسے مرے لیے وہی خانہ خراب کافی ہے

غزل · Ghazal

ye gham kaa rang ye aab-e-malaal aankhon mein

یہ غم کا رنگ یہ آب ملال آنکھوں میں عزا کا جیسے ہو عکس ہلال آنکھوں میں کبھی سراب کبھی تشنگی کبھی صحرا کبھی کبھی فقط آب زلال آنکھوں میں نظر ملاؤں تو کیسے وہ لے کے چلتا ہے بہت عجیب سے کتنے سوال آنکھوں میں اب آئنہ بھی جو دیکھوں تو اپنے چہرے پر میں پڑھتی رہتی ہوں تیرا خیال آنکھوں میں ذرا سی دیر کو فرحتؔ نظر نظر سے ملی پھر اس کے بعد تو جام سفال آنکھوں میں

Similar Poets