Farhat Nawaz
Farhat Nawaz
Farhat Nawaz
Ghazalغزل
لگا تھا یوں کسی اونچی اڑان سے اترے تصورات کے جب لا مکان سے اترے شجر کی بانہوں میں سوئی ہوا کو نہ چھیڑو تھکن کا بوجھ تو کچھ جسم و جان سے اترے میں دیکھ تو لوں زمانے کے تیوروں کا رنگ وہ تھوڑی دیر کو ہی میرے دھیان سے اترے چمک کے خوشیوں کا سورج بھی تھک گیا آخر اداسیوں کے نہ سائے مکان سے اترے انا یوں گھات میں بیٹھی رہے گی کتنی دیر کبھی تو میرے بدن کے مچان سے اترے بلندیوں کی مسافت کا دم نہیں مجھ میں مرے لئے کوئی چشمہ چٹان سے اترے گلاب رت میں بھی اتنی اداسیاں فرحتؔ ترے لئے تو ارم آسمان سے اترے
lagaa thaa yuun kisi unchi uDaan se utre
شجر گہرے زمینوں میں گڑے ہیں تو کیوں ہلکی ہوا میں کانپتے ہیں چلو اس موڑ سے واپس چلیں ہم اب آگے مختلف رستے بنے ہیں ہمیں یہ دکھ نہیں ہے خود کو کھویا یہ غم ہے ہم اسے بھی کھو چکے ہیں ہمارے خواب بھی اپنے کہاں ہیں کسی کی یاد نے آ کر بنے ہیں جب اس کو بھول بیٹھی ہوں میں فرحتؔ تو پھر آنکھوں میں کیسے رت جگے ہیں
shajar gahre zaminon mein gaDe hain





