
Farhat Qadri
Farhat Qadri
Farhat Qadri
Ghazalغزل
شعور و فکر کی تجدید کا گماں تو ہوا چلو کہ فن کا افق کشت زعفراں تو ہوا بلا سے لے اڑی مجھ کو شعاع نور سحر فصیل شب سے گزر کر میں بے کراں تو ہوا یہ کم نہیں ہے کہ میں ہوں خلاؤں کا ہم راز مرے وجود میں گم سارا آسماں تو ہوا یہ ٹھیک ہے کہ فنا ہو گیا وجود اس کا مگر وہ قطرہ سمندر کا رازداں تو ہوا تمام حرف و نوا میں سمٹ گیا لیکن ہمارا غم بھی بکھر کر غم جہاں تو ہوا جنون شوق تو مصلوب ہو گیا لیکن ہر ایک لمحہ مہ و سال پر گراں تو ہوا ہمارے ساتھ ہی بکھرا ہماری ذات کا کرب یہ راز لفظوں کے انبار سے عیاں تو ہوا میں ان کے سامنے آئینہ بن گیا فرحتؔ خود اپنی شکل پہ ان کو مرا گماں تو ہوا
shuur-o-fikr ki tajdid kaa gumaan to huaa
1 views
آئی خزاں چمن میں گئے دن بہار کے شرمندہ سب درخت ہیں کپڑے اتار کے میک اپ سے چھپ سکیں گی خراشیں نہ وقت کی آئینہ ساری باتیں کہے گا پکار کے انساں سمٹتا جاتا ہے خود اپنی ذات میں بندھن بھی کھلتے جاتے ہیں صدیوں کے پیار کے پھر کیا کرے گا رہ کے کوئی تیرے شہر میں راتیں ہی جب نصیب ہوں راتیں گزار کے سوچا ہے اپنے زخموں کے آنگن میں بیٹھ کر سجدے کروں گا نقش تمنا ابھار کے تنہائیوں کا درد سمیٹے ہوئے کوئی فرحتؔ چلا ہے ٹھوکریں دنیا کو مار کے
aai khizaan chaman mein gae din bahaar ke
1 views
راتوں کے اندھیروں میں یہ لوگ عجب نکلے سب نام و نسب والے بے نام و نسب نکلے تعمیر پسندی نے کچھ زیست پر اکسایا کچھ موت کے ساماں بھی جینے کا سب نکلے یہ نور کے سوداگر خود نور سے عاری ہیں گردوں پہ مہ و انجم تنویر طلب نکلے یہ دشت یہ صحرا سب ویران ہیں برسوں سے اس سمت بھی دیوانہ تکبیر بہ لب نکلے تہذیب کی بے باکی ایسی تو نہ تھی پہلے ہم جب بھی کہیں نکلے تا حد ادب نکلے تسکیں کے لئے ہم نے جن سے بھی گزارش کی ہم سے بھی زیادہ وہ تسکین طلب نکلے ہستی کی مسافت میں اپنا جنہیں سمجھا تھا جب وقت پڑا فرحتؔ وہ مہر بہ لب نکلے
raaton ke andheron mein ye log ajab nikle
جتنے لوگ نظر آتے ہیں سب کے سب بیگانے ہیں اور وہی ہیں دور نظر سے جو جانے پہچانے ہیں زنجیروں کا بوجھ لئے ہیں بے دیوار کے زنداں میں پھر بھی کچھ آواز نہیں ہے کیسے یہ دیوانے ہیں بچ بچ کر چلتے ہیں ہر دم شیشے کی دیواروں سے کون کہے دیوانہ ان کو یہ تو سب فرزانے ہیں خود ہی بجھا دیتے ہیں شمعیں روشنیوں سے گھبرا کر اس محفل میں اے لوگو کچھ ایسے بھی پروانے ہیں صیادوں نے گل چینوں نے گلشن کو تاراج کیا لیکن ہم دیوانوں سے آباد ابھی ویرانے ہیں ان کا غم ہے اپنا غم ہے اپنے پرائے سب کا غم شہر وفا میں پھر بھی فرحتؔ اور کئی غم خانے ہیں
jitne log nazar aate hain sab ke sab begaane hain
راز ابل پڑے آخر آسماں کے سینوں سے ربط اس زمیں کو ہے اور بھی زمینوں سے کون سا جہاں ہے یہ کیسے لوگ ہیں اس میں اٹھتا ہے دھواں ہر دم دل کے آبگینوں سے ہر بشر ہے فریادی ہر طرف اندھیرا ہے مہر و مہ نہیں نکلے شہر میں مہینوں سے اک طرف زبانوں پر دوستی کے نعرے ہیں اک طرف ٹپکتا ہے خون آستینوں سے مفلسوں کی بستی میں وسعتیں ہیں دنیا کی آپ اتر کے دیکھیں تو اپنی شہ نشینوں سے نا خدا کی ہمت کا امتحان لیتی ہے ورنہ کد نہیں کچھ بھی موج کی سفینوں سے تجربوں کی دنیا میں اہل علم و حکمت کو رفعتیں ملیں فرحتؔ فکر و فن کے زینوں سے
raaz ubal paDe aakhir aasmaan ke sinon se
جب ہر نظر ہو خود ہی تجلی نمائے غم پھر آدمی چھپائے تو کیسے چھپائے غم اس وقت تک ملی نہ مجھے لذت حیات جب تک رہا زمانے میں ناآشنائے غم میری نگاہ شوق ہی غم کا سبب نہیں ان کی نگاہ ناز بھی ہے رہنمائے غم سودائے عشق درد محبت جفائے دوست ہم نے خوشی کے واسطے کیا کیا اٹھائے غم شاید یہ ہے کرشمہ فریب نشاط کا گھبرا کے آ گئی ہے لبوں پر دعائے غم فرحتؔ کی ہر ہنسی میں ہیں آنسو چھپے ہوئے اس کی خوشی بھی اوڑھے ہوئے ہے ردائے غم
jab har nazar ho khud hi tajalli-numaa-e-gham





