SHAWORDS
F

Farida Alam Fahmi

Farida Alam Fahmi

Farida Alam Fahmi

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

اب تو آ جا مری پلکیں ہیں یہ پیاسی کب سے فرش رہ بیٹھی ہے آ دیکھ اداسی کب سے مجھ کو بھی اچھا نہیں لگتا سنورنا لیکن ترک تو نے کیا یہ ذوق لباسی کب سے گھر میں رشتوں کی کڑی ٹوٹ گئی ہو جیسے گھر میں رہنے لگی اک بات ذرا سی کب سے بانٹتا پھرتا ہے در در تو محبت سب کو گھر میں بیٹھی ہے ادھر دیکھ پیاسی کب سے دل لبھاتی رہی اک عمر یہ دنیا لیکن منتظر پھول رہے گھر میں یہ باسی کب سے یاد آتی ہی نہیں تجھ کو مجھے حیرت ہے منتظر ہے کسی دہلیز پہ ماں سی کب سے بال پھیلائے ہوئے پھرتی ہے نفرت ہائے ہو چکی فہمیؔ محبت کی خلاصی کب سے

ab to aa jaa miri palkein hain ye pyaasi kab se

غزل · Ghazal

دل کا ہر ساز چھڑا ساز بجے ہیں دل میں تو جو آیا تو کئی پھول کھلے ہیں دل میں یہ بھی ممکن تھا کہ بچ جاتا تعلق لیکن ہم کو معلوم نہیں تھا کہ گلے ہیں دل میں روشنی خود ہی تجھے میرا پتہ دے دے گی کیونکہ یادوں کے کئی دیپ جلے ہیں دل میں یہ جو سناٹا مری روح میں اترا تھا کبھی اس نے افسانے نئے دیکھ بنے ہیں دل میں ایک ہی شخص تھا دنیا میں محبت کے لیے باقی تو بھرتی کے احباب رکھے ہیں دل میں ہم سے اظہار کی جرأت نہ ہوئی تھی ورنہ تجھ کو بتلاتے کہ کیا خواب سجے ہیں دل میں روبرو اشک ندامت تو بہے وہ فہمیؔ جس کے طوفان کئی سال رہے ہیں دل میں

dil kaa har saaz chhiDaa saaz baje hain dil mein

غزل · Ghazal

خواب تھا یا کہ جنوں خوب تھا بیکل مجھ میں برپا رکھتا تھا ہر اک حال میں ہلچل مجھ میں یہ جو آنکھوں سے چھلکتی ہے ہمہ وقت مرے رکھ گیا اپنی نشانی کوئی چھاگل مجھ میں یہ بتاتے ہیں مجھے ہونٹوں کے شکوے میرے آج بھی رہتی ہے لڑکی کوئی پاگل مجھ میں مجھ کو رونے ہی نہیں دیتے ارادے میرے کیا کروں دل جو دھڑکتا ہے یہ کومل مجھ میں میں تو خاموش ہوں اک عمر سے لیکن ہائے شور کرتا ہے بہت درد کا بادل مجھ میں میں لیے پھرتی ہوں ہونٹوں پہ گلستان ادب اس کے برعکس ہے آباد یہ جنگل مجھ میں رنج و غم اس لیے اس دل کے مکیں ہیں فہمیؔ ورد ہوتا ہے کسی ہجر کا پل پل مجھ میں

khvaab thaa yaa ki junun khuub thaa bekal mujh mein

غزل · Ghazal

ایک آنسو جو مری آنکھ سے ٹپکا ہے ابھی ضبط کی انتہا دل یعنی کہ سمجھا ہے ابھی ایک ہلکی سی مہک آئی ہے مجھ تک دیکھو کون چھو کر مری دہلیز کو گزرا ہے ابھی موت کی پائے گا اک روز سزا کہہ دو اسے حق جو جینے کا یہاں مانگنے آیا ہے ابھی جو مرے دل میں دھڑکتا رہا دھڑکن بن کر سیڑھیاں دل کی مرے دیکھ لو اترا ہے ابھی چھین کر حق مرا معلوم نہیں ہے اس کو دن وہ محشر کا جو آنا تھا وہ آیا ہے ابھی ایسے ساکت ہوا یہ جسم کہ جیسے اس نے مجھ پہ جادو کوئی پڑھتے ہوئے پھونکا ہے ابھی اپنے بچوں کو تو جا اور بچا لے فہمیؔ ایک گڈھا نئی تہذیب نے کھودا ہے ابھی

ek aansu jo miri aankh se Tapkaa hai abhi

غزل · Ghazal

روز تارے شمار کون کرے جیت کو اپنی ہار کون کرے تجھ سے دھوکے ملے سدا ہم کو تجھ پہ پھر اعتبار کون کرے بھیڑیوں کا ہوا ہے یہ جنگل بھیڑیوں کا شکار کون کرے جو نہ آئے گا لوٹ کر واپس اس کا دل انتظار کون کرے سوچتی ہوں میں بے وفا کے لیے ہائے دل بے قرار کون کرے عشق کی اوج پر ہو بازی گری فکر اب سر کی یار کون کرے شور کرنے سے رزق ہو حاصل خامشی اختیار کون کرے ماسوا تیرے سسکیاں اے قلم مجھ پہ اب آشکار کون کرے بال ہو آئنے کی آنکھوں میں پھر یہ فہمیؔ سنگار کون کرے

roz taare shumaar kaun kare

غزل · Ghazal

اس کو تنہائی میں سوچوں تو مچل جاتا ہے دل مرا کیسا ہے جو سوچوں سے جل جاتا ہے میری تنہائی سنا دے جو مجھے میری غزل میرا پیکر تری تصویر میں ڈھل جاتا ہے رعب خاموشی ہے یا اس میں ہے پوشیدہ جلال غم صدا دے کے ہی چپ چاپ نکل جاتا ہے میری خاموشی مجھے دیتی ہے قوت تب ہی ٹھوکریں کھا کے مرا دل جو سنبھل جاتا ہے یوں تو بجتے ہیں کئی ساز تخیل میں مرے دل مگر نغمۂ جاں سن کے بہل جاتا ہے کون کہتا ہے کہ بازار وفا میں دل کا سکہ جیسا بھی ہو جیسا بھی ہو چل جاتا ہے اس کو دیکھا ہی نہیں ٹھیک سے فہمیؔ لیکن نام پر اس کے یہ دل وحشی مچل جاتا ہے

us ko tanhaai mein sochun to machal jaataa hai

Similar Poets