SHAWORDS
Farooq Bakshi

Farooq Bakshi

Farooq Bakshi

Farooq Bakshi

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

ik pal kahin ruke the safar yaad aa gayaa

اک پل کہیں رکے تھے سفر یاد آ گیا پھولوں کو ہنستا دیکھ کے گھر یاد آ گیا تتلی کے ساتھ آئی تری یاد بھی ہمیں رکھا ہوا کتاب میں پر یاد آ گیا بیٹھے تھے جس کی چھاؤں میں ہم دونوں مدتوں کیا جانے آج کیوں وہ شجر یاد آ گیا سرحد سے کوئی آیا ہے پھر خون مانگنے اک ماں کو اپنا لخت جگر یاد آ گیا پھینکا تھا میں نے طنز کا پتھر کسی کی سمت غالبؔ کی طرح اپنا ہی سر یاد آ گیا

غزل · Ghazal

vo na aaegaa yahaan vo nahin aane vaalaa

وہ نہ آئے گا یہاں وہ نہیں آنے والا مجھ کو تنہائی کا احساس دلانے والا کیا خبر تھی کہ ترس جائے گا تعبیروں کو اپنی آنکھوں میں ترے خواب سجانے والا اپنی تدبیر کے انجام سے ناواقف ہے حال تقدیر کا اوروں کو بتانے والا میری رگ رگ میں لہو بن کے رواں ہو جیسے میرے سائے سے بھی دامن کو بچانے والا کامیابی سے بہرحال خوشی ہوتی ہے ہنس رہا ہے مجھے دیوانہ بنانے والا بزم کی اور ہے تنہائی کی دنیا کچھ اور رات بھر روتا رہا دن میں ہنسانے والا ہمہ تن گوش بنا دیتا ہے مجھ کو فاروقؔ اس کی باتوں کا وہ انداز لبھانے والا

غزل · Ghazal

mahakte lafzon mein shaamil hai rang-o-bu kis ki

مہکتے لفظوں میں شامل ہے رنگ و بو کس کی یہ میرے شعروں میں ہوتی ہے گفتگو کس کی وہ دل کی آگ تو یا رب کبھی کی سرد ہوئی مگر ان آنکھوں کو اب بھی ہے جستجو کس کی مرا وجود تو اب تک سہی سلامت ہے ہوا میں خاک یہ اڑتی ہے کو بہ کو کس کی اگر وہ لوٹ کے آیا نہیں تو بتلانا یہ خوشبو پھیلی ہے آنگن میں چار سو کس کی تو اپنے آپ سے بیزار تو نہیں فاروقؔ ترے مزاج میں آخر یہ آئی خو کس کی

غزل · Ghazal

khudaa kare ki ye miTTi bikhar bhi jaae ab

خدا کرے کہ یہ مٹی بکھر بھی جائے اب چڑھا ہوا ہے جو دریا اتر بھی جائے اب یہ روز روز کا ملنا بچھڑنا کھلتا ہے وہ میری روح کے اندر اتر بھی جائے اب وہاں وہ پھول سا چہرہ ہے منتظر اس کا کہو یہ شاعر آوارہ گھر بھی جائے اب میں اپنے آپ کو کب تک یونہی سمیٹے پھروں چلے وہ آندھی کہ سب کچھ بکھر بھی جائے اب اسی کی وجہ سے سارے وبال ہیں فاروقؔ بدن کا قرض ادا ہو یہ سر بھی جائے اب

غزل · Ghazal

ye saudaa ishq kaa aasaan saa he

یہ سودا عشق کا آسان سا ہے ذرا بس جان کا نقصان سا ہے بہا کر لے گیا ہوش و خرد کو یہ سیل عشق بھی طوفان سا ہے وہی جو سب کے غم میں گھل رہا ہے ہمارے حال سے انجان سا ہے خدا اس کو زمانے سے بچائے ابھی یہ آدمی انسان سا ہے

غزل · Ghazal

kaise in sachche jazbon ki ab us tak tafhim karun

کیسے ان سچے جذبوں کی اب اس تک تفہیم کروں روٹھنے والا گھر آئے تو لفظوں میں ترمیم کروں مجھ سے بچھڑ کر جانے والے اتنا تو سمجھاتا جا اپنے آپ کو دو حصوں میں کیسے میں تقسیم کروں اہل سیاست بانٹ رہے ہیں جان سے پیارے لوگوں کو میں شاعر ہوں سچ کہتا ہوں کیوں ان کی تعظیم کروں وہ بھی زمانہ ساز ہوا ہے تم بھی ٹھیک ہی کہتے ہو میری بھی مجبوری سمجھو کس دل سے تسلیم کروں تجھ سے بچھڑنا قسمت میں تھا جینا تو مجبوری ہے سوچ رہا ہوں اجڑے گھر کی پھر سے نئی تعظیم کروں کوشش تو کی لاکھ مگر کچھ بات نہیں بنتی فاروقؔ سوچ رہا ہوں سارا منظر لفظوں میں تجسیم کروں

Similar Poets