Farooq Siddiqui
Farooq Siddiqui
Farooq Siddiqui
Ghazalغزل
bhaTak rahi hai andhere mein zindagi to nahin
بھٹک رہی ہے اندھیرے میں زندگی تو نہیں وہ جس کو ڈھونڈ رہا ہوں کہیں وہی تو نہیں دکھائی دیتا ہے اب بھی دھواں دھواں ہر سو لگی تھی آگ جو گھر میں ابھی بجھی تو نہیں بھٹک رہی ہے جو کرب و الم کے صحرا میں اسے پکار کے دیکھو وہ زندگی تو نہیں وہ لاش دیکھ کے دشمن کی رو دیا آخر ہزار کچھ ہو یہ انسانیت مری تو نہیں نہیں ہے دولت دنیا تو غم نہیں فاروقؔ متاع درد کا ہم سے کوئی دھنی تو نہیں
dasht-e-gumaan ko nur-e-yaqin kaa jamaal de
دشت گماں کو نور یقیں کا جمال دے تاریکیوں کے رخ پہ سویرا اچھال دے پلٹوں میں خالی ہاتھ تجھے کب روا ہے یہ کچھ تہمتیں ہی لا مری جھولی میں ڈال دے لہجہ بگاڑ کر نہ کسی سے کلام کر نفرت بھی ہو اگر تو سلیقے سے ٹال دے پیشانیوں کے بال اسی کی پکڑ میں ہیں جس کو بھی جیسے چاہے عروج و زوال دے شاید کہ رنگ لائے محبت کی زندگی فاروقؔ دل کا خون بھی اشکوں میں ڈھال دے





