SHAWORDS
F

Farooq Zaman

Farooq Zaman

Farooq Zaman

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

چھپا کر عشق کی خوشبو کو تو رکھا نہیں جاتا نظر اس کو بھی پڑھ لیتی ہے جو لکھا نہیں جاتا بہت ہلچل سی ہوتی ہے ہمارے خون میں یارو کسی پر ظلم ہو تو ہم سے وہ دیکھا نہیں جاتا کسی کی بد دعا اس کی ترقی روک دیتی ہے تکبر کا شجر پھلتا ہے پر اونچا نہیں جاتا بہانے نت نئے ہر دن بنا کرتے ہو تم صاحب ہمیں یہ صاف ہی کہہ دو کہ اب آیا نہیں جاتا یہ شفقت ان کے حق میں نہ کوئی دیوار بن جائے بگڑ جاتے ہیں یہ بچے اگر ٹوکا نہیں جاتا جسے چاہا تھا پوجا تھا زمنؔ گہرائی سے دل کی ہمارے ذہن کے گوشے سے وہ چہرہ نہیں جاتا

chhupaa kar 'ishq ki khushbu ko to rakhaa nahin jaataa

غزل · Ghazal

متاع ظرف ہوتی تو قد آور ہو گئے ہوتے تو پھر تم بھی مرے قد کے برابر ہو گئے ہوتے ضرورت ہی نہیں تھی آپ کو مرہم لگانے کی تسلی ہی اگر دیتے تو گھاؤ بھر گئے ہوتے تمہیں الجھا کے رکھا ہے تمناؤں کے دلدل نے اگرچہ نفس سے لڑتے قلندر ہو گئے ہوتے اگر یہ زندگی روشن ضمیروں میں بسر ہوتی ستاروں کی طرح ہم بھی منور ہو گئے ہوتے تمہیں بھی شعر کہنے کا سلیقہ آ گیا ہوتا ہمارے ساتھ رہتے تو سخنور ہو گئے ہوتے اگر تم حق پہ لڑتے تو خدا امداد کر دیتا تمہارے ساتھ ابابیلوں کے لشکر ہو گئے ہوتے زمانہ رشک سے پھر دیکھنے لگتا زمنؔ مجھ کو اگر وہ میری چاہت کا مقدر ہو گئے ہوتے

mataaa-e-zarf hoti to qad-aavar ho gae hote

غزل · Ghazal

درد بھی ہو زیادہ تو کم کم لگے تو نمک بھی لگائے تو مرہم لگے کتنی پیاری محبت کی سرگم لگے ننھی بٹیا کے پائل کی چھم چھم لگے جب بھی پیتا ہوں مجھ کو خدا کی قسم ماں کے ہاتھوں کا پانی بھی زمزم لگے جب تلک تم مرے ساتھ چلتے رہے مجھ کو راہوں کے کانٹے بھی ریشم لگے تم اگر ساتھ ہوں تو خزاں بھی مجھے خوب صورت بہاروں کا موسم لگے اے زمن کہکشاں پھول تارے قمر ان کے آگے مجھے سارے مدھم لگے

dard bhi ho ziyaada to kam-kam lage

Similar Poets