
Farooque Rahib
Farooque Rahib
Farooque Rahib
Ghazalغزل
انہونی اک بات ہوئی ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ ہونٹوں پہ کیا بیت رہی ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ طوفاں طوفاں شور ہوا تھا واویلا تھا ہنگامہ تھا پھر تو وہی اک خاموشی ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ ہنگامے جب ٹوٹ گئے ہیں سرد پڑی ہیں چیخیں بھی خاموشی ہی ساتھ چلی ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ پتا پتا بول اٹھا ہے گلشن گلشن چیخ رہا ہے موسم گل میں آگ لگی ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ برسوں سے ہم ڈھونڈ رہے تھے صدیوں سے ہم پوچھ رہے تھے اب منزل جب پاس کھڑی ہے تم بھی چپ ہو ہم بھی چپ
anhoni ik baat hui hai tum bhi chup ho ham bhi chup
1 views
پھول خوشبو سبز منظر بولتے ہیں ہو اگر احساس پتھر بولتے ہیں ریت سیپوں سے سمندر بولتے ہیں یہ صداؤں کے شناور بولتے ہیں خاک میں ہیں شان شوکت کے امیں اب اجڑے محلوں کے کبوتر بولتے ہیں بے حسی دنیا میں اتنی بڑھ گئی ہے درمیاں اپنوں کے خنجر بولتے ہیں موت کے سائے کا راہب خوف کیا ہے پاسدار سچ برابر بولتے ہیں
phuul khushbu sabz manzar bolte hain





