Farzana Sabtain Farzi
Farzana Sabtain Farzi
Farzana Sabtain Farzi
Ghazalغزل
ہم بار بار شکوۂ تقدیر کیا کریں ہوگی نہ کارگر کوئی تدبیر کیا کریں کاتب کو خود ہمارے مقدر پہ ہے ملال کیا کچھ پڑا ہے سہنا یہ تشہیر کیا کریں دیکھا ہے جب سے جھانک کے خود اپنے آپ کو اک مختلف سی مل گئی تصویر کیا کریں سپنے سہانے سب یہاں بکھرے ہیں ایک ایک اب خواب کچھ ہو خواب کی تعبیر کیا کریں مل جائے کاش خضر ہی صحرا نصیب کو بھٹکے ہوئے ہیں ہم سبھی رہ گیر کیا کریں
ham baar baar shikva-e-taqdir kyaa karein
کبھی تو حق کی کوئی بات برملا کہئے برا برے کو بھلے کو سدا بھلا کہئے ہوا کا دیکھیے رخ کون کتنا بدلا ہے قصور کس کا ہے میرا کہ آپ کا کہئے بیاں کا فرق ہے ورنہ وہی ہے کیفیت بجھا بجھا نہ سہی دل جلا جلا کہئے تمہارے بعد نہ کی کوئی آرزو میں نے اگر ہو دیکھا کبھی دل کا در کھلا کہئے کوئی کمی سی جو ہر موڑ پر ہوئی محسوس جسے نہ پر کوئی کر پایا وہ خلا کہئے حیات و موت کے اسرار کون سمجھا ہے اسے ازل سے ابد تک کا سلسلہ کہئے ہے لا علاج یہ آزاد عشق اے فرضیؔ علاج اس کا کسی سے بھی کب ہوا کہئے
kabhi to haq ki koi baat barmalaa kahiye





