SHAWORDS
F

Fatima Husaini Makhfi

Fatima Husaini Makhfi

Fatima Husaini Makhfi

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

zakhm raazi rahe nashtar ki paziraai ko

زخم راضی رہے نشتر کی پذیرائی کو آپ آئے ہی نہیں کار مسیحائی کو فہم ہستی نہ کہیں وہم و گماں ہو جائے رخ سے پردہ جو اٹھا دیں وہ شناسائی کو ہوشمندی کا تقاضا ہے تو پھر یوں کیجے آپ آنکھوں سے چرا لیجیے بینائی کو تجھ پہ تف ہے کہ تجھے حسن کا عرفان نہیں تو نے آوارہ سمجھ رکھا ہے لیلائی کو سوزن و خار سے وابستہ ہے ہر ریشۂ دل عشق اک سرخ قبا مانگے ہے زیبائی کو دامن خار سے لپٹی ہیں ہزاروں کلیاں کچھ تحفظ بھی یہاں چاہیے رعنائی کو سلوٹوں سے مرے بستر کی عیاں ہو جاتی ٹوٹنے دیتے اگر خواب میں انگڑائی کو ساتھ کھیلی تھی کبھی آنکھ مچولی ہم نے آج بھی ڈھونڈ رہے ہیں اسی انگنائی کو اپنی صورت میں چھپا رکھی ہے مخفیؔ صورت آئنہ قید کیے بیٹھا ہے ہرجائی کو

غزل · Ghazal

fareb-e-manzar ke isti'aaron se dil jo apnaa lagaa rahe hain

فریب منظر کے استعاروں سے دل جو اپنا لگا رہے ہیں وہی دھڑکتے ہوئے دلوں سے نگاہ اپنی چرا رہے ہیں عجیب سی کشمکش ہے لوگو ضمیر آلودۂ زماں ہے شریعت عشق کے مسافر یہاں وہاں سر جھکا رہے ہیں عجب مزاج کرم ہے ان کا گلوں سے اپنی نظر کو پھیرے نیا ہے انداز باغبانی کہ خار کو گل بنا رہے ہیں غبار دل جو اڑا ہوا ہے کہیں وہ دامن میں آ نہ جائے بڑی ادا سے بڑے ہنر سے وہ اپنا دامن بچا رہے ہیں گلوں سے شاداب زخم دل کا فسانہ کیسے سنائے کوئی ہر ایک شاخ چمن پہ طائر ترانے خوشیوں کے گا رہے ہیں کہاں وہ سیلاب وہ سمندر کہاں یہ آتش فشاں سا منظر ہر ایک طغیانیٔ کرم کو جواز دل ہم بنا رہے ہیں فسانے دل کے ہیں ختم سارے کہ بزم الفت سمٹ چکی ہے بس ایک ہم ہیں کہ چشم گریہ لہو سے اپنے بہا رہے ہیں کہ درد من شد سکون مرشد سنا تھا ہم نے کسی زباں میں نقوش چہرے کے اپنے مخفیؔ وہی حکایت سنا رہے ہیں

غزل · Ghazal

nok-e-mizhgaan par machaltaa hai sahaab-e-aarzu

نوک مژگاں پر مچلتا ہے سحاب آرزو بلبل خوش لحن کیا سوزاں ہے پھر زیر گلو بھر لیا نوک قلم سے خامے نے کس کا لہو صفحۂ قرطاس پر پھیلی صدائے ہا و ہو ہے نفس پر چوٹ پھر سے یا الٰہی الاماں کس طرف لے جا رہی ہے کوئے یار نیک رو ہائے وہ تشنہ لبی اب دم نہیں اک دم کو ہے اور میخانے میں تو چھلکائی ہے آب سبو کس قدر شرما رہا ہے آئنہ ہم سے کہ اب کوئی بھی صورت نظر آتی نہیں ہے رو بہ رو ایک خاموشی سماعت کے حوالے کیا ہوئی ہم سے ہر ذرہ ہوا جاتا ہے محو گفتگو عشق نے دی ہے اذاں آؤ عبادت کے لیے زیر خنجر اپنے خوں سے کر رہے ہیں ہم وضو چاک دامانی رہے زیر ردائے عشق جب پھر بھلا کیوں ڈھونڈھتی ہے یہ نظر دام رفو

غزل · Ghazal

shafaq ko nezon pe khuun ki talaash hai kyon hai

شفق کو نیزوں پہ خوں کی تلاش ہے کیوں ہے فلک تجھے بھی ستوں کی تلاش ہے کیوں ہے لگی ہے دل پہ تو پھر مان کیوں نہیں لیتے تمہاری عقل کو کیوں کی تلاش ہے کیوں ہے وہ فتنہ گر کہ جسے لوگ عشق کہتے ہیں اسے جنوں میں سکوں کی تلاش ہے کیوں ہے نہیں جو تاب نظر دید کی تمنا کیوں نگاہ شوق فسوں کی تلاش ہے کیوں ہے سفینہ موج تلاطم کہ ساحلوں کی ڈھلان سبھی کو جوش جنوں کی تلاش ہے کیوں ہے اٹھا بھی سکتا ہے پردہ وہ چاہ جائے اگر اسے بھی کن فیکوں کی تلاش ہے کیوں ہے نشان سجدہ تو ظاہر ہے ہے نہیں مخفیؔ یقیں کو حال دروں کی تلاش ہے کیوں ہے

غزل · Ghazal

mujhe yaqin ki surat vo dastyaab nahin

مجھے یقین کی صورت وہ دستیاب نہیں گماں پہ صبر بھی یوں ہے کہ اضطراب نہیں سراب دشت جنوں آبلے کسک دل کی مرا نصیب ہیں سب میرا انتخاب نہیں ہمارا عشق مزاجاً جنون پرور ہے یہاں نہ ڈھونڈ ہمارا یہاں جواب نہیں جو خواب بن کے اترتا نہیں ہے آنکھوں میں وہی تو میری حقیقت ہے میرا خواب نہیں کشید کر لے جو آنکھوں سے شبنمی قطرے ترے لبوں پہ وہ کھلتا ہوا گلاب نہیں وہ آنکھ بھر کے مجھے دیکھنے پہ مائل ہے کہاں چھپوں کوئی پردہ کوئی حجاب نہیں عجب ہے نامۂ الفت عجب ہیں تحریریں پیام مخفیؔ بھی ہے اور انتساب نہیں

Similar Poets