Fattavat Aurangabadi
Fattavat Aurangabadi
Fattavat Aurangabadi
Ghazalغزل
pahnaa ho bar mein jaama miraa gul-ezaar surkh
پہنا ہو بر میں جامہ مرا گلعذار سرخ آئی ہے کیا مزے سے چمن میں بہار سرخ جب سے گرا ہے خون شہیداں کا خاک پر تب سے ہوا ہے جوش گل لالہ زار سرخ میں خواب میں ہوا ہوں ہم آغوش گل بدن کیا دیکھتا ہوں صبح کو ہے گا کنار سرخ یاں لگ بہے ہے خون مرے اشک چشم سے بہتے ہیں اب کے سال میں سب جوئبار سرخ مقتول جو کہ دست حنا بند سے ہوا رکھتا بجا ہے قبر پہ سنگ مزار سرخ گل کا خجل ہو رنگ پسینے میں بہہ گیا گل رو کے عکس رخ سے ہیں اب آبشار سرخ خون جگر کا حال فتوتؔ میں جب لکھا مسطر کا ہو گیا ہے ہر اک تار تار سرخ
kiyaa aankhon ko nazr us ki kahaa dil hai so vo bahlaa
کیا آنکھوں کو نذر اس کی کہا دل ہے سو وہ بہلا ہوا ہوں صرف فرمائش کبھی یہ لا کبھی وہ لا جو خوش چشموں کی الفت میں دیا برباد جی اپنا لگاؤ اس کی تربت پر لجا کر نرگس شہلا گیا ہوں بھول اپنے کو پیام و نامہ کیا بھیجوں خیال دل کا قاصد ان دنوں میں آہ کیوں چہلا یہ طفل اشک دامن گیر ہے ہر آن میں مجھ سے بہانے سے میں لڑکے کو رکھوں کس طرح کر بہلا تمہیں آرام زنداں میں دوانوں اس سبب سے ہے دیا زنجیر نیں شاید تمہارے پاؤں کو سہلا جنوں کے علم کو عالم ہوں میرا رتبہ مت پوچھو کہ مجنوں درس وحشت کا مرے شاگرد ہے پہلا





