Fayyaz Domki
khanjar-e-shab jo utar jaaeinge aankhon mein miri
خنجر شب جو اتر جائیں گے آنکھوں میں مری منظر رفتہ ٹھہر جائیں گے آنکھوں میں مری ظلم سہنے کے لئے رکھتا ہوں پتھر کا جگر اشک غم یوں ہی نہ بھر جائیں گے آنکھوں میں مری ہوگا بازو سے نمایاں مری جرأت کا کمال حادثے جب بھی ٹھہر جائیں گے آنکھوں میں مری جب بھی آئے گا مجھے عہد گزشتہ کا خیال کتنے طوفاں سے بپھر جائیں گے آنکھوں میں مری کس طرح خود میں اتاریں گے سحر کا نشہ زخم شب نیندیں جو دھر جائیں گے آنکھوں میں مری