SHAWORDS
Fayyaz Uddin Saieb

Fayyaz Uddin Saieb

Fayyaz Uddin Saieb

Fayyaz Uddin Saieb

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

خدایا زخموں میں شدت درد اور بھی کچھ شدید کر دے پھر اس کے بعد ان تمام زخموں سے اک سخن تو کشید کر دے مچلنا اے دل برا نہیں ہے تو ضد بھی کرنا درست کب ہے کسی کی آنکھیں نہیں کھلونا جو کوئی تجھ کو خرید کر دے سبھی نے دیکھا ہے قتل ہوتے مگر کوئی بولتا نہیں ہے مجھی کو یا رب زبان دے کر یہ واقعہ چشم دید کر دے تری جزا و سزا کی منطق ہمارے افکار سے سوا ہے تو جس کو چاہے حسین کر دے تو جس کو چاہے یزید کر دے عبادتوں کے لیے عمارات مختلف ہیں خدا وہی ہے تو چاہے مندر کو توڑ ڈالے کہ کوئی مسجد شہید کر دے

khudaayaa zakhmon mein shiddat-e-dard aur bhi kuchh shadid kar de

1 views

غزل · Ghazal

آگ برستی لگتی ہے دیواروں سے صائبؔ کیا لکھ آئے ہو انگاروں سے قتل کے بعد مجھے سائے میں ڈال آتے اتنی تو امید تھی مجھ کو یاروں سے میرا دکھ سکھ بانٹنے تو آ جاتے ہیں ہم سایے اچھے ہیں رشتے داروں سے دیکھ لو اپنا سر رکھا ہے نیزوں پر فاصلہ ہم نے رکھا ہے دستاروں سے آخر کب تک قتل کی خبریں پڑھنی ہیں اب تو وحشت ہوتی ہے اخباروں سے

aag barasti lagti hai divaaron se

1 views

غزل · Ghazal

سروں پہ دھوپ کا اک سائبان رہنے دے زمیں رہے نہ رہے آسمان رہنے دے میں آگہی کی فصیلوں کو چوم آیا ہوں مرے خدا تو مجھے بے زبان رہنے دے امیر شہر کا ایوان کانپ اٹھے گا غریب شہر ہوں میرا بیان رہنے دے مرے خدا ترے دوزخ کو خلد سمجھوں گا میں اک بشر ہوں مرا امتحان رہنے دے مہک تو گل کی ہر اک سمت جائے گی صائبؔ وہ چاہتا ہے تجھے یہ گمان رہنے دے

saron pe dhuup kaa ik saaebaan rahne de

1 views

غزل · Ghazal

تمہارے ظلم کی میعاد گھٹ بھی سکتی ہے یہ میرے پاؤں کی زنجیر کٹ بھی سکتی ہے جو سچ کہا ہے تو اس کی سزا بھی جانتا ہوں مجھے خبر ہے زباں میری کٹ بھی سکتی ہے دلوں کے بیچ جو دوری ہے اس کو ختم کریں یہ سرحدوں کی رکاوٹ تو ہٹ بھی سکتی ہے مجھے شکست نظر آ رہی ہے خود اپنی مگر یقین ہے بازی پلٹ بھی سکتی ہے مری نظر کو نہ آمادۂ نظارہ کر مری نظر ترے رخ سے لپٹ بھی سکتی ہے

tumhaare zulm ki miaad ghaT bhi sakti hai

غزل · Ghazal

الفاظ گفتگو کے لیے اب نہیں رہے محسوس ہو رہا ہے مرے لب نہیں رہے مانا کہ فاصلے ہیں بہت پھر بھی یہ بتا ہم تیرے ساتھ ساتھ بھلا کب نہیں رہے کچھ دیر گفتگو میں تو شائستہ وہ رہا پھر یوں ہوا کہ ہم بھی مہذب نہیں رہے تیشے سے کوئی دودھ کی نہریں نکال دے ہاتھوں میں اب وہ عشق کے کرتب نہیں رہے ہاتھوں کو اس کی فتح کی خاطر اٹھا دیا دیکھا کہ اس کے تیر و کماں جب نہیں رہے

alfaaz guftugu ke liye ab nahin rahe

Similar Poets