Faza jalandharii
تجھے کس طرح چھڑاؤں خلش غم نہاں سے دل بے قرار لاؤں انہیں ڈھونڈھ کر کہاں سے وہ بہار کاش آئے وہ چلے ہوائے دل کش کہ قفس پہ پھول برسیں مری شاخ آشیاں سے کبھی قافلے سے آگے کبھی قافلے سے پیچھے نہ میں کارواں میں شامل نہ جدا ہوں کارواں سے مرے بعد کی بہاریں مری یادگار ہوں گی کہ کھلیں گے پھول اکثر مری خاک رائیگاں سے ابھی مسکرا رہی تھیں مری آرزو کی کلیاں مجھے لے چلا مقدر سوئے دام آشیاں سے جو جبیں میں تھا امانت مرا شوق جبہ سائی وہ لپٹ کے رہ گیا ہے ترے سنگ آستاں سے ملی لمحہ بھر بھی فرصت نہ فضاؔئے غمزدہ کو وہ برس رہے ہیں فتنے شب و روز آسماں سے
tujhe kis tarah chhuDaaun khalish-e-gham-e-nihaan se