
Fazl Geelani
Fazl Geelani
Fazl Geelani
Ghazalغزل
ہم جو اک لہر میں لہراتے ہوئے جھومتے ہیں کیوں نہ ایسا ہو کہ ہم ساتھ ترے جھومتے ہیں رقص درویش کا یہ سلسلہ دنیا سے نہ جوڑ ہم کسی اور ہی لذت کے لیے جھومتے ہیں ایسی منزل پہ لے آیا ہے مرا رقص مجھے اب کئی سلسلے بھی ساتھ مرے جھومتے ہیں ڈول جائے نہ ترے ڈولنے سے پرتو نور تیرے ہم راہ کئی شمع کدے جھومتے ہیں ذرا دیکھو تو سہی اہل محبت کی طرف کتنی سرمستیاں آنکھوں میں لیے جھومتے ہیں روشنی راز ہے ایسا کہ سمجھ آنے پر کتنے سر گھومتے ہیں کتنے دیے جھومتے ہیں میں اکیلا تو نہیں جھوم رہا ہوں سیدؔ تارے بھی ساتھ مرے رات گئے جھومتے ہیں
ham jo ik lahr mein lahraate hue jhumte hain
2 views
یہ رواں اشک یہ پیارے جھرنے مرے ہو جائیں یہ سارے جھرنے منظر آلودہ ہوا جاتا ہے کس نے دریا میں اتارے جھرنے کسی امکان کا پہلو ہیں کوئی تری آواز ہمارے جھرنے اتنی نمناک جو ہے خاک مری کس نے مجھ میں سے گزارے جھرنے مجھ میں تصویر ہوئی آخر شب خامشی پیڑ ستارے جھرنے ایک وادی ہے سر کوہ سکوت اور وادی کے کنارے جھرنے دیکھو تو بہتے ہوئے وقت کی رو اب ہمارے ہیں تمہارے جھرنے کیا بتاؤں میں انہیں تو ہی بتا پوچھتے ہیں ترے بارے جھرنے
ye ravaan ashk ye pyaare jharne
2 views
عجب ٹھہراؤ تھا جس میں مسافت ہو رہی تھی روانہ بھی نہیں تھا اور ہجرت ہو رہی تھی بنایا جا رہا تھا کینوس پر زرد سورج ابھارا جا رہا تھا نقش حیرت ہو رہی تھی کہیں جاتا نہیں تھا میں کہیں آتا نہیں تھا یقیں آتا نہیں تھا ایسی حالت ہو رہی تھی مرا اس کے بنا تو جی ذرا لگتا نہیں تھا اداسی لوٹ آئی تھی مسرت ہو رہی تھی چراغ ایک ایک کر کے روشنی کرنے لگے تھے مجھے ان سب چراغوں سے محبت ہو رہی تھی نیا اک باغ تھا اور اس کو کاٹا جا رہا تھا پرندوں کو ابھی پیڑوں کی عادت ہو رہی تھی بچھڑ جانے کا کچھ کچھ خوف بھی ہونے لگا تھا مجھے اس کے رویے پر بھی حیرت ہو رہی تھی نہیں تھی زندگانی بھی وہاں حسب تمنا محبت بھی وہاں حسب ضرورت ہو رہی تھی یہ آنسو تو نہ تھے جو بہہ رہے تھے ہجر گل میں یہ خوشبو تھی جو آنکھوں سے روایت ہو رہی تھی مجھے خود میں کوئی صحرا میسر آ گیا تھا اڑائی جا رہی تھی خاک وحشت ہو رہی تھی مکمل بد گمانی ہو گئی تھی اس کو سیدؔ پلٹنے میں مجھے بھی اب سہولت ہو رہی تھی
'ajab Thahraav thaa jis mein masaafat ho rahi thi
1 views
اس لئے بھی مجھے تجھ سے ملنے میں تاخیر ہے خواب کی سمت جاتی سڑک زیر تعمیر ہے اتنے پھول اک جگہ دیکھ کر سب کا جی خوش ہوا پتیاں جھڑنے پر کوئی کوئی ہی دلگیر ہے ہنستی دنیا ملی آنکھ کھلتے ہی روتی ہوئی یہ مرا خواب تھا اور یہ اس کی تعبیر ہے جس زباں میں ہے اس کی سمجھ ہی نہیں آ رہی غار کے دور کے ایک انساں کی تحریر ہے رحم کھاتی ہوئی کتنی نظروں کا ہے سامنا میری حالت ہی شاید مرے غم کی تشہیر ہے کیسا کیسا ہے جلوہ مرے سامنے اس گھڑی پھر بھی چشم تصور میں تیری ہی تصویر ہے
is liye bhi mujhe tujh se milne mein taakhir hai
1 views
ایک دوجے کو جانتے ہی نہیں اب کھلا ہے کہ ہم وہ تھے ہی نہیں جتنے پتھر ہوا کے ہاتھ میں ہیں سر خاک اتنے آئنے ہی نہیں ایسی ہموار رہ گزر تھی مری کہیں سیدھے قدم پڑے ہی نہیں خواب ہیں اور کچھ ملال بھی ہیں آنکھ میں صرف رت جگے ہی نہیں سن اداسی کے وہ چراغ ہیں ہم جل رہے ہیں کبھی بجھے ہی نہیں ان میں الجھا ہوا ہے کیوں سیدؔ یار جو تیرے مسئلے ہی نہیں
ek duuje ko jaante hi nahin
1 views
ٹوٹ کر عشق کیا ہے بھی نہیں بھی شاید مجھ سے یہ کام ہوا ہے بھی نہیں بھی شاید اے مری آنکھ کی دہلیز پہ دم توڑتے خواب مجھ کو افسوس ترا ہے بھی نہیں بھی شاید میری آنکھوں میں ہے ویرانی بھی شادابی بھی خواب کا پیڑ ہرا ہے بھی نہیں بھی شاید دل میں تشکیک ہوئی تجھ کو نہ چھو کر کیا کیا ایسے تقوے کی جزا ہے بھی نہیں بھی شاید میں ہوں جس عہد پر آشوب میں زندہ سیدؔ اس میں اب ہونا مرا ہے بھی نہیں بھی شاید
TuuT kar ishq kiyaa hai bhi nahin bhi shaayad
1 views





