SHAWORDS
Feroz Ahmed Faiz

Feroz Ahmed Faiz

Feroz Ahmed Faiz

Feroz Ahmed Faiz

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ham ne tire firaaq mein tark-e-vafaa nahin kiyaa

ہم نے ترے فراق میں ترک وفا نہیں کیا تو نے وفا نہیں کیا ہم نے جفا نہیں کیا اپنوں کی بے دلی سہی سب میں ہوئے ہیں خوار ہم ورنہ ذرا بتاؤ دل کس کا بھلا نہیں کیا تم نے کسی سے عشق کی کہتے ہیں ہم نوا سبھی ان سے ہے کیسا واسطہ ہم نے کیا نہیں کیا ساری حدوں کو توڑ کر اس نے کئے کئی ستم ہم نے بھی حد کو توڑ دی اک بھی گلہ نہیں کیا غلطی جو ایک ہو گئی چھوڑ کے وہ مجھے گئی کتنوں کو اب وہ چھوڑے گی کس نے خطا نہیں کیا تم نے تمام پیار کا مجھ کو حساب دے دیا تم نے مجھے برا کہا تم نے برا نہیں کیا

غزل · Ghazal

haath us ke haath se ab yuun phisaltaa jaa rahaa hai

ہاتھ اس کے ہاتھ سے اب یوں پھسلتا جا رہا ہے جسم سے جیسے ہمارا دم نکلتا جا رہا ہے دل کسی کا توڑ کر اس نے بکھیری زندگی اب جوڑنے کی ضد میں وہ خود ہی بکھرتا جا رہا ہے فاصلوں کو اب مٹانے کے لیے اس کی ہی جانب میں کھسکتا جا رہا ہوں وہ سمٹتا جا رہا ہے راستے پر آگ ہے بارش بھی ہے کانٹے بھی ہیں پر اپنی دھن میں وہ مسافر خوب چلتا جا رہا ہے وہ سنور کر جب نکلتی ہے گلی میں تب کوئی گر بول دے اس کو ہمارا دل اجڑتا جا رہا ہے تم کوئی شاعر نہیں فائزؔ مگر یہ بات بھی ہے گل کوئی تاریک راتوں میں مہکتا رہا ہے

غزل · Ghazal

koi aansu bahaataa hai koi fariyaad kartaa hai

کوئی آنسو بہاتا ہے کوئی فریاد کرتا ہے یہ دل تجھ کو بھلا کر کیوں تجھے ہی یاد کرتا ہے تباہی کے بہت سارے وسیلے ہیں مگر اک تو محبت ہی میں اپنے آپ کو برباد کرتا ہے ترے دل میں محبت کو جگانے کے لیے اب تو وہ پاگل روز ہی کچھ کچھ نئی ایجاد کرتا ہے درختوں کو جڑوں سے کاٹ کر بنتے ہیں فرنیچر تو اپنا گھر سجاتا ہے وہ گھر کو یاد کرتا ہے جلا کر بستیوں کو بولتے پھرتے ہیں یہ ظالم کوئی برباد کرتا ہے کوئی آباد کرتا ہے عجب عادت سی اس کو ہو گئی ہے وہ کبوتر کو پکڑتا ہے پکڑ کر خود ہی پھر آزاد کرتا ہے کہاں جائے گا خوشیوں کا ٹھکانا ڈھونڈنے فائزؔ غموں سے اپنے دل کو آج تک وہ شاد کرتا ہے

غزل · Ghazal

jahaan unchi imaarat hai vahin miTTi kaa bhi ghar hai

جہاں اونچی عمارت ہے وہیں مٹی کا بھی گھر ہے یہ قبرستان کو دیکھو ذرا کتنا برابر ہے سمندر کی خموشی بھی تو اک دن ٹوٹ جاتی ہے مگر کیسے بھلا ٹوٹے جو تیرے ان لبوں پر ہے بہت تڑپا رہے ہو باپ کو رستے میں تم لیکن اسی رستے میں ہے بیٹا عجب کیسا یہ چکر ہے حقیقت زندگی کی کھل گئی مجھ پر کہ دنیا میں زمیں پر سنگ ہے ہیرا مگر مٹی کے اندر ہے یہ کیسا زخم ہے اب تک ہرا ہے کیوں نہیں بھرتا یہاں مرہم نہیں ہے وقت کے ہاتھوں میں خنجر ہے بہت پردے ہیں اس کمبخت کے کردار پر فائزؔ کہ چاندی کی کوئی پنی کسی پتھر کے اوپر ہے

غزل · Ghazal

tiri chaahaton ke khayaal mein kai hasratein bhi milin mujhe

تری چاہتوں کے خیال میں کئی حسرتیں بھی ملیں مجھے تجھے دیکھنے کے خمار میں کئی عادتیں بھی ملیں مجھے ہے عجب طرح کا معاملہ کبھی زندگی نے جو دی سزا تو ستم کے ساتھ مرے خدا بڑی راحتیں بھی ملیں مجھے ہاں برا کسی کا نہیں کیا مگر ایک درد کی بات یہ کہ بھلا کیا تو کیا مگر یہیں تہمتیں بھی ملیں مجھے مری زندگی میں تو نفرتوں کی سیاہ رات ہی تھی مگر کسی روشنی کی طرح صنم تری الفتیں بھی ملیں مجھے جہاں پتھروں کے گواہ سے کبھی سچ کو جھوٹ بنا لیا کبھی جھوٹ سچ میں بدل گیا وہ عدالتیں بھی ملیں مجھے مرے ہم نشیں مرے ہم نوا مرے ہم سفر مرے راز داں ترے دل میں پیار کے ساتھ ساتھ کدورتیں بھی ملیں مجھے

Similar Poets