Fida Khalidi Dehlvi
har ik maqaam se guzrungaa zindagi ke liye
ہر اک مقام سے گزروں گا زندگی کے لیے تمام رنج گوارا تری خوشی کے لیے کرم کیا مری جانب جو تم نے دیکھ لیا تڑپ رہا تھا اندھیروں میں روشنی کے لیے بسے ہوئے ہیں انہیں سے تمام ویرانے بہار ڈھونڈ رہے تھے جو زندگی کے لیے بغیر درد کسے کون یاد کرتا ہے یہیں تو غم کی ضرورت ہے آدمی کے لیے یقین ہے کہ سحر تک پہنچ ہی جاؤں گا گزر رہا ہوں اندھیروں میں روشنی کے لیے بغیر سعیٔ مسلسل تو کچھ نہیں ہوتا جنوں بھی کتنا ضروری ہے آگہی کے لیے سمجھ چکا ہوں کہ آداب دوستی کیا ہیں خلوص دل کی ضرورت ہے دوستی کے لیے نہ جانے کتنے پتنگوں کو کر دیا بے نور چراغ کس نے جلایا ہے روشنی کے لیے کسی کو حسن دیا ہے کسی کو عشق فداؔ ہر ایک چیز نہیں ہے ہر اک کسی کے لیے