SHAWORDS
Firoz Natiq Khusro

Firoz Natiq Khusro

Firoz Natiq Khusro

Firoz Natiq Khusro

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

ho gae yaar paraae apne

ہو گئے یار پرائے اپنے جسم اپنے ہیں نہ سائے اپنے پھیر لیں اس نے بھی نظریں آخر وقت پر کام نہ آئے اپنے وہ جو بدلا تو زمانہ بدلا رنگ دنیا نے دکھائے اپنے اجنبی لگتی ہے اپنی صورت ہو گئے نقش پرائے اپنے کیں شمار اپنی جفائیں اس نے جرم سب ہم نے گنائے اپنے ہر گھڑی سوانگ رچایا ہم نے اس نے سو رنگ دکھائے اپنے اعتبار آئے بھی کیسے اس کا بات جو دل کو نہ بھائے اپنے کیا کہیں محو سفر ہیں کب سے جسم کا بوجھ اٹھائے اپنے منتظر بزم سخن تھی خسروؔ شمع کب سامنے آئے اپنے

غزل · Ghazal

pahle to faqat us kaa talabgaar huaa main

پہلے تو فقط اس کا طلب گار ہوا میں پھر عشق میں خود اپنے گرفتار ہوا میں آنکھوں میں بسا جب بھی کوئی اجنبی چہرہ اک لذت بے نام سے دو چار ہوا میں میں یوسف ثانی نہ زلیخاؔ نہ وہ دربار کیا سوچ کے رسوا سر بازار ہوا میں اک عمر بگولوں کے تعاقب میں گزاری پھر اپنی ہی پرچھائیں سے بیزار ہوا میں میں منصف دوراں نہ فقیہوں میں ہوں شامل کس جرم میں بے جبہ و دستار ہوا میں حق گوئی کی پاداش میں منصور کی صورت ہر دور میں وقف رسن و دار ہوا میں میں اپنے ہی ہونے سے گریزاں ہوا خسروؔ اقرار کی صورت کبھی انکار ہوا میں

غزل · Ghazal

main mauj mauj huun meri bisaat dariyaa hai

میں موج موج ہوں میری بساط دریا ہے مرا قبیلہ سمندر ہے ذات دریا ہے نہ وہم ہے نہ گماں ہے نہ خواب ہے نہ خیال میں چل رہا ہوں مرے ساتھ ساتھ دریا ہے کوئی تو ہوگا سبب تشنہ لب ہوں میں ورنہ برہنہ تیغ ہے اور چند ہاتھ دریا ہے بنا لے اور بھی کاغذ کی کشتیاں بیٹی ابھی تو ہوں گے کئی حادثات دریا ہے خدا خدا نہ پکارے گا نا خدا کب تک بھنور ہے تاک میں کینہ صفات دریا ہے جو شخص ڈوب رہا ہے اسے بھی غور سے سن گہر ہے اس کا ہر اک لفظ بات دریا ہے نہ باندھ رخت سفر پہلے سوچ لے خسروؔ شکستہ ناؤ اندھیری ہے رات دریا ہے

غزل · Ghazal

ab nahin koi Thikaanaa apnaa

اب نہیں کوئی ٹھکانا اپنا دوست ہے تو نہ زمانہ اپنا چاہتیں ہیں نہ وہ یادیں باقی لٹ گیا ہائے خزانہ اپنا اپنا ہمدرد نہ مونس کوئی آج دشمن ہے زمانہ اپنا تھی کبھی شہر میں اس کی شہرت سب سے اونچا تھا گھرانا اپنا روٹھنا ہم سے وہ اس کا پل پل ہر گھڑی اس کو منانا اپنا پھر ہوئی اس کی تمنا پیدا پھر کہا دل نے نہ مانا اپنا شاعری نے کیا رسوا خسروؔ ہو گیا عام فسانہ اپنا

غزل · Ghazal

sasti shohrat haasil karne kuchon mein chaubaaron mein

سستی شہرت حاصل کرنے کوچوں میں چوباروں میں کھوٹے سکے اچھلے اچھلے پھرتے ہیں بازاروں میں ہیں کچھ ایسے لوگ جو اپنے پیسوں سے چھپواتے ہیں اوروں کے کاندھوں پہ چڑھ کر تصویریں اخباروں میں بھوکی ننگی جنتا کب تک پیٹ کا ڈھول بجائے گی بولو بابو کچھ تو بولو کیا رکھا ہے نعروں میں بہتا پانی پھول کنول کے ساتھ بہا لے آتا ہے امن کی آشا ناؤ بنی ہے دریاؤں کے دھاروں میں خسروؔ اک آسیب کے ڈر سے گھر کا گھر سب کیل دیا پھر بھی اک آسیب ہے زندہ جسم کی ان دیواروں میں

غزل · Ghazal

dil-bhitar barsaat hui hai

دل بھیتر برسات ہوئی ہے یوں بھی گزر اوقات ہوئی ہے بند دریچے سونی گلیاں لوٹ چلو گھر رات ہوئی ہے شرط لگا کر جب بھی کھیلے کھیل میں ہم کو مات ہوئی ہے بیت گئیں لو ہجر کی گھڑیاں ختم شب‌ ظلمات ہوئی ہے اس کوچے آ نکلے جب بھی ساتھ میں اک بارات ہوئی ہے جس نے بھی سچ بولا بڑھ کر خلقت اس کے ساتھ ہوئی ہے روٹھے روٹھے کیوں رہتے ہو کچھ تو کہو کیا بات ہوئی ہے اتنا بڑا الزام ہے ہم پر اتنی ذرا سی بات ہوئی ہے حفظ بیاض میرؔ ہے جس کو اس کو عطا سوغات ہوئی ہے قفل طلسم حرف کھلا ہے شرح کتاب ذات ہوئی ہے وقت نزول شعر ہے خسروؔ صبح گئی اب رات ہوئی ہے

Similar Poets