SHAWORDS
G. R. Vashishth

G. R. Vashishth

G. R. Vashishth

G. R. Vashishth

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

phir is ke baad to saat aasmaan udaas rahe

پھر اس کے بعد تو سات آسماں اداس رہے وہ چاہتا تھا میرا سائباں اداس رہے کسے پڑی ہے کہ کیا بات تھی کہ ہر کوئی بہت ہی خوش تھا جہاں ہم وہاں اداس رہے تو کیا ہوا جو بچھڑنے کا غم نہیں تھا اسے تم اپنی سوچو نہ تم بھی کہاں اداس رہے کوئی ہنسے مرے آگے تو رونا آتا ہے میں ہوں اداس تو سارا جہاں اداس رہے میں جل رہا ہوں یہ ہنسنے کی بات ہے کوئی اسے کہو کہ یہ میرا دھواں اداس رہے یہ میرا دل ہے کہ ہر رنگ سوکھ لیتا ہے نہ آئے کوئی بھی وہ جو یہاں اداس رہے

غزل · Ghazal

is se pahle ki sahaaron ko tu aadat kar le

اس سے پہلے کہ سہاروں کو تو عادت کر لے دل بغیر اس کے سنبھلنے کی بھی ہمت کر لے فن یکجائی کا ماہر کوئی آئے تب تک ہے کوئی جو مرے ٹکڑوں کی حفاظت کر لے کتنا سادہ ہے تو اس میں بھی رضا چاہتا ہے مجھ کو برباد کرے گا ہے اجازت کر لے نیند نے مان لیا جو مری آنکھوں کے خلاف تیرے خوابوں نے کہا تھا کہ بغاوت کر لے کتنا آساں ہے ہنر آنکھ کی دشواری کا زندگی بھر جسے رونا ہو محبت کر لے

غزل · Ghazal

main shaair huun to kyaa rotaa rahungaa

میں شاعر ہوں تو کیا روتا رہوں گا لہو کے داغ ہی دھوتا رہوں گا زمیں آنکھوں کی ہو جائے گی بنجر مسلسل خواب اگر بوتا رہوں گا تیری زلفیں نہیں ہوں گی تو پھر میں شجر کی چھاؤں کا ہوتا رہوں گا یہ کب سوچا تھا جب کھو جاؤ گے تم جسے بھی پاؤں گا کھوتا رہوں گا تیری آنکھیں کھلیں گی تب تلک تو میں یوں سو جاؤں گا سوتا رہوں گا

غزل · Ghazal

kabhi Daraae kabhi khud hi Darne lagti hai

کبھی ڈرائے کبھی خود ہی ڈرنے لگتی ہے حیات حرکت اطفال کرنے لگتی ہے میں تنگ آ کے جہاں سے جو دیکھتا ہوں تجھے میری نظر کی تھکاوٹ اترنے لگتی ہے میری رگوں میں لہو شور بن کے دوڑتا ہے میرے لبوں پہ خموشی ٹھہرنے لگتی ہے میں اپنے کمرے میں سگریٹ پیتا رہتا ہوں دھواں دھواں تیری صورت ابھرنے لگتی ہے وہ جس گلی سے گزرتا ہے اس گلی کی خبر تمام گلیوں سے ہو کر گزر نے لگتی ہے کسی کی روح کو دل سے لگائے رہتا ہوں کسی کے جسم کی چاہت مکرنے لگتی ہے

غزل · Ghazal

dost ban kar aae koi aur gale hans kar lage

دوست بن کر آئے کوئی اور گلے ہنس کر لگے ایک عرصہ ہو گیا ہے پیٹھ میں خنجر لگے کس قدر بے چین رہتا ہوں کہ مجھ بیمار کو دور سے آتا ہوا ہر شخص چارہ گر لگے ایک مدت کا میں جاگا اس بھرم میں سو گیا کیا پتہ مجھ کو یہ دنیا خواب میں بہتر لگے قبل تو میرا یہ رونا تھا کوئی نزدیک ہو اب یہ عالم ہے کہ مجھ کو محفلوں سے ڈر لگے اتنے چہرے آنکھ سے گزرے ہیں اس کی کھوج میں عین ممکن ہے مرا ہو جائے تو دیگر لگے اب تو مجھ کو رنگ ہی بھاتے نہیں تب تو تیری زلف کے سائے دھنک کے رنگوں سے بڑھ کر لگے

غزل · Ghazal

jo chaahiye thaa vo na milaa aasmaan se

جو چاہیے تھا وہ نہ ملا آسمان سے ٹھکرا کے لوٹ آئے ستاروں کو شان سے یہ سوچ کر کے چھاؤں میں بیٹھا نہ میں کبھی ٹوٹے نہ حوصلہ ترا میری تھکان سے تلووں کو چاٹنے سے ہر اک کام بن پڑا محنت نہ دے سکی وہ جو پایا زبان سے لیکن وہ زخم بھر گیا دہشت نہیں گئی سب یاد آنے لگتا ہے اس کے نشان سے ہم سے ذرا سا آگے اگر ہو بھی تم تو کیا ہم اپنے آپ سے بنے تم خاندان سے لوٹا جو خالی ہاتھ تو میں مسکرا دیا امید بھی نہیں تھی تیرے آستان سے اے دل تو راہ عشق کی ٹھوکر سے لے سبق جو ہو گیا سو ہو گیا آئندہ دھیان سے سر سے بھٹک رہا ہے تمہارا ہر ایک لفظ دل کیا سنے گا جو نہ سنا جائے کان سے

Similar Poets