
Garima Saxena
Garima saxena
Garima saxena
Ghazalغزل
اوس کے سارے دانوں کو چگ جاتی ہے دھوپ تو بھوکی چڑیا بن کر آتی ہے جتنا گہراتا جاتا ہے اندھیارا رات گگن میں اتنے دیپ جلاتی ہے آٹھ بجے تک سوئی رہتی تھی جو کل ماں بنتے ہی آہٹ سے اٹھ جاتی ہے پنجرے کو وہ توڑ نہیں پاتی ہے پر چڑیا آزادی کے نغمے گاتی ہے اونچے اونچے خواب دکھاتی ہے مجھ کو میری گڑیا جو کہ کمر تک آتی ہے میری ماں دیتی تھی دانہ چڑیوں کو میری بیٹی آج تلک دہراتی ہے جس ماچس سے آگ لگانے آئے ہو وہ ماچس چولھے کو بھی سلگاتی ہے
os ke saare daanon ko chug jaati hai
تم نے ڈھونڈھا فقط چراغوں میں روشنی تھی بہت کتابوں میں ایک عرصے سے نیند روٹھی ہے کون آیا تھا میرے خوابوں میں وہ تمہیں راستہ دکھا دیں گی میں نے بوئی ہیں آنکھیں راہوں میں من میں جب بھی اندھیرا چھایا ہے میں نے سورج رچا خیالوں میں
tum ne DhunDhaa faqat charaaghon mein
آنکھوں میں خواب پاؤں میں چھالوں کو پال کر لائی ہوں میں اندھیرے سے سورج نکال کر لڑکی کا جسم پہلے تو شیشے کا کر دیا پھر اس کو وہ ڈراتا ہے پتھر اچھال کر یہ زخم تو دوائی سے بھر پائے گا نہیں دل کی ہے چوٹ دل سے ہی تو دیکھ بھال کر میں کیا ہوں ایسی باتیں تو مجھ پہ ہی چھوڑ دے تو کیا ہے اپنے آپ سے پہلے سوال کر
aankhon mein khvaab paaon mein chhaalon ko paal kar





