
Gauhar Seema
Gauhar Seema
Gauhar Seema
Ghazalغزل
زیست میں تاریکیاں بڑھتی گئیں لمحہ لمحہ سسکیاں بڑھتی گئیں بے زبان جب ہو گئی یہ زندگی ذہن میں سرگوشیاں بڑھتی گئیں خواہشوں کے پھول مرجھانے لگے پھر مری یہ ہچکیاں بڑھتی گئیں زخم کھا کر مسکراتے ہی رہے دل کی یہ خاموشیاں بڑھتی گئیں سوچتے ہی سوچتے گزرا سفر خواب کی سرمستیاں بڑھتی گئیں
ziist mein taarikiyaan baDhti gaiin
2 views
وحشتوں کا آج پھر چرچا رہا آج پھر یہ دل مرا ٹھہرا رہا وادیوں میں زندگی مرتی رہی درد آنکھوں سے مرے بہتا رہا پتھروں کے وار وہ سہتے گئے آئنوں کے ساتھ یہ قصہ رہا مسئلے شمع بجھا کر تھک گئے شوق کا سورج مگر جلتا رہا زندگی اپنا سفر کرتی گئی روبرو آنکھوں کے اک چہرہ رہا منتشر تھے دھڑکنوں کے ساز بھی دل مسلسل رات بھر تنہا رہا زخم دے کر تھک گئی یہ زندگی خواب آنکھوں میں مگر ٹھہرا رہا
vahshaton kaa aaj phir charchaa rahaa
اس زندگی نے بخشے جو تحفے عجیب ہیں پگڈنڈیاں ہیں دور تک رستے عجیب ہیں اب کھو چکے خلوص و محبت جہان سے چاہت وفا سے دور ہیں رشتے عجیب ہیں سمجھے نہیں خدارا عجب تیرا فلسفہ خوش رنگ دکھ رہے کیوں وہ ہوتے عجیب ہیں سمجھے بھی کوئی کیسے بتاؤ اسے ذرا اس زندگی کے کتنے ہی چہرے عجیب ہیں رشتوں کی کتنی الجھی ہیں زنجیر پاؤں میں ہر ہر قدم پہ لگتے یہ پہرے عجیب ہیں
is zindagi ne bakhshe jo tohfe ajiib hain
زندگی کو ایک معنی دے گیا وہ مجھے اک رت سہانی دے گیا وہ تو اپنے لمس سے اطراف میں خوشبو جیسے زعفرانی دے گیا سوچ کر جیتے رہے شام و سحر خواب جیسی اک کہانی دے گیا منتشر ہیں دھڑکنوں کے ساز بھی درد میں ایسی روانی دے گیا ٹیس بن کر رہ گیا پہلو میں جو زخم ایسا جاودانی دے گیا چھین کر لب سے تبسم کی لکیر جھیل سی آنکھوں میں پانی دے گیا
zindagi ko ek maani de gayaa
چلو دنیا میں مہکائیں محبت بشر کو آؤ سکھلائیں محبت کریں مسمار دیواریں انا کی زمیں پر مل کے پھیلائیں محبت ہوئی ہے گم کہیں یہ وحشتوں میں چلو اب ڈھونڈ کر لائیں محبت خزاں سی چھا گئی نفرت کی ہر سو چمن میں پھر سے بکھرائیں محبت بہت مشکل سفر ہے عشق یارو کہاں تک سب کو سمجھائیں محبت
chalo duniyaa mein mahkaaein mohabbat
کیا اب کسی کی آرزو یا جستجو کریں اب خود سے ہی سوال کریں گفتگو کریں کوئی تو کام ایسا کریں زندگی میں ہم کچھ اپنے والدین کو بھی سرخ رو کریں ڈالیں نظر ہم اپنے بھی عیبوں پہ دوستوں جب آئنے کو اپنے کبھی روبرو کریں قدرت کے کارناموں میں ہے کتنی دل کشی لگتا ہے بارشوں میں کہ پتے وضو کریں اب ختم کر دے زندگی سانسوں کا سلسلہ ہم اپنی خواہشوں کا کہاں تک لہو کریں
kyaa ab kisi ki aarzu yaa justuju karein





