SHAWORDS
G

Gauhar Usmani

Gauhar Usmani

Gauhar Usmani

poet
13Ghazal

Ghazalغزل

See all 13
غزل · Ghazal

رخ سے فطرت کے حجابات اٹھا دیتا ہے آئنہ ٹوٹ کے پتھر کو صدا دیتا ہے عظمت اہل وفا اور بڑھا دیتا ہے غم مسلسل ہو تو پھر غم بھی مزا دیتا ہے دل دھڑکتا ہے تو پہروں نہیں سونے دیتا نیند آتی ہے تو احساس جگا دیتا ہے تم نے شاید کبھی اس بات کو سوچا ہوگا وقت ہاتھوں کی لکیریں بھی مٹا دیتا ہے جو مرے قتل کے درپئے تھا نہ جانے کب سے آج وہ بھی مجھے جینے کی دعا دیتا ہے اپنے کردار پہ موجوں کو بھی شرم آتی ہے جب کوئی ڈوب کے ساحل کا پتا دیتا ہے غم کی توفیق بھی سب کو نہیں ملتی گوہرؔ یہ وہ نعمت ہے جو مشکل سے خدا دیتا ہے

rukh se fitrat ke hijaabaat uThaa detaa hai

غزل · Ghazal

اب صلیبیں شاہراہوں پر سجا دی جائیں گی عکس رہ جائیں گے تصویریں ہٹا دی جائیں گی بات کرنے کو ترس جائیں گے ارباب وفا بندشیں اتنی زبانوں پر لگا دی جائیں گی جن کتابوں میں وفا کا ذکر آئے گا نظر صبر کیجے وہ کتابیں بھی جلا دی جائیں گی آپ اور تم کا تصور بھی فنا ہو جائے گا جتنی قدریں ہیں ادب کی سب مٹا دی جائیں گی منتظر رہئے محبت کا پیمبر آئے گا جتنی شمعیں بجھ چکی ہیں سب جلا دی جائیں گی پی رہے ہیں جن میں گوہرؔ لوگ انساں کا لہو ایسی تعمیروں کی بنیادیں ہلا دی جائیں گی

ab salibein shaah-raahon par sajaa di jaaeingi

غزل · Ghazal

دل میں رہنا کبھی خوابوں کے نگر میں رہنا تم جہاں رہنا محبت کے سفر میں رہنا خیر مقدم کے لئے آؤں گا میں بھی اک دن تم ابھی سلسلۂ شام و سحر میں رہنا وقت سمتوں کے تعین کو بدل سکتا ہے تم مرے ساتھ محبت کے سفر میں رہنا معجزہ یہ بھی ہے اس دور کے فنکاروں کا آگ سے کھیلنا اور موم کے گھر میں رہنا فکر شاعر کے دریچوں سے گزر کر دیکھو کتنا دشوار ہے لوگوں کی نظر میں رہنا غرق ہونے سے بچے کتنے سفینے گوہرؔ کام آیا مری کشتی کا بھنور میں رہنا

dil mein rahnaa kabhi khvaabon ke nagar mein rahnaa

غزل · Ghazal

کبھی شادماں کبھی پر الم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ کرم کے روپ میں اک ستم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی عہد رسم و رہ وفا وہ دل و نظر کا معاملہ مجھے یاد ہے مرے محترم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی غنچہ غنچہ و گل بہ گل وہی رخ بہ رخ وہی دل بہ دل کبھی تھے چمن کی بہار ہم تمہیں یاد ہو ہو کہ نہ یاد ہو وہ فسوں طراز سی اک نظر کبھی منتظر کبھی منتظر وہ فسانہ ساز شب الم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی وہ تبسم زیر لب کبھی خامشی سی وہ بے سبب کبھی سر خوشی کبھی آنکھ نم تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

kabhi shaadmaan kabhi pur-alam tumhein yaad ho ki na yaad ho

غزل · Ghazal

تیری تصویر کو دھندلا نہیں ہونے دیں گے زندگی ہم تجھے رسوا نہیں ہونے دیں گے سر پہ ہر لمحہ رہیں گے ترے آنچل کی طرح تو غزل ہے تجھے تنہا نہیں ہونے دیں گے جن مکانوں سے ہے منسوب خدا کی عظمت ان مکانوں میں اندھیرا نہیں ہونے دیں گے جان جاتی ہے چلی جائے بلا سے لیکن ہم محبت کو تماشا نہیں ہونے دیں گے جن کو سائے میں گناہوں کو پناہیں مل جائیں ان فصیلوں کو اب اونچا نہیں ہونے دیں گے پار کر لے جو قناعت کی حدوں کو گوہرؔ اتنا دامن کو کشادہ نہیں ہونے دیں گے

teri tasvir ko dhundlaa nahin hone deinge

غزل · Ghazal

بجز خیال غم محبت کوئی مرا ہم سفر نہیں ہے میں اب وہاں سے گزر رہا ہوں جہاں کسی کا گزر نہیں ہے الم بھی کب ساتھ چھوڑ جائے کسی کو اس کی خبر نہیں ہے بہار تو پھر بہار ٹھہری خزاں بھی اب معتبر نہیں ہے فضائیں نکہت میں ڈھل رہی ہیں وفا کا اقرار ہو رہا ہے خود اپنے جلووں میں وہ بھی گم ہیں ہمیں بھی اپنی خبر نہیں ہے مجھے حقیقت سے واسطہ ہے نقیب فطرت ہوں میں ازل سے خزاں کو فصل بہار کہہ دوں یہ میرا ظرف نظر نہیں ہے

ba-juz khayaal-e-gham-e-mohabbat koi miraa ham-safar nahin hai

Similar Poets