Gawwas Qureshi
Gawwas Qureshi
Gawwas Qureshi
Ghazalغزل
dil agar maail-e-itaab na ho
دل اگر مائل عتاب نہ ہو درد کا درد پھر جواب نہ ہو ایسی کروٹ بھی کوئی کروٹ ہے جس کے پہلو میں انقلاب نہ ہو کیوں چمک اٹھا آج مے خانہ تیرے ساغر میں آفتاب نہ ہو بحر ہستی میں نا خدائے جہاں زندگی صورت حباب نہ ہو دل سے کوشش کرے اگر انساں غیر ممکن ہے کامیاب نہ ہو کیوں پریشان رہتا ہے غواصؔ تیری تقدیر محو خواب نہ ہو
intizaar-e-did mein yuun aankh pathraai ki bas
انتظار دید میں یوں آنکھ پتھرائی کہ بس مرتے مرتے وہ ہوئی عالم میں رسوائی کہ بس دیکھ کر شبنم کی حالت ہنس پڑی نو رس کلی دو گھڑی پتوں پہ رہ کر اتنا اترائی کہ بس دل کی دھڑکن بڑھ گئی آنکھوں میں آنسو آ گئے اک ذرا سی بات پر اتنی ہنسی آئی کہ بس موت کو بھی مرنے والے پر ترس آ ہی گیا اس طرح چڑھتی جوانی میں قضا آئی کہ بس بات کیسی اب تو ہونٹوں پر ہے آہوں کا ہجوم چوٹ کھانے پر بھی ایسی چوٹ پر کھائی کہ بس توبہ کرنے کو تو کر لی حضرت غواصؔ نے یک بیک گردوں پہ وہ کالی گھٹا چھائی کہ بس
agar ho chashm-e-haqiqat to dekh kyaa huun main
اگر ہو چشم حقیقت تو دیکھ کیا ہوں میں فنا کے رنگ میں اک جوہر بقا ہوں میں طلسم بند سے مشکل رہائی ہے دل کی حصار چشم فسوں ساز میں گھرا ہوں میں مٹا مٹا کے مجھے ایک دن مٹا دے گا زمانہ ساز تری چال جانتا ہوں میں کمال عشق تصور ہے اوج پر ایسا ترے جمال کو ہر شے میں دیکھتا ہوں میں مری تلاش میں گم ہیں مسافران عدم حدود وہم سے آگے نکل گیا ہوں میں تلاش جس کی ہے ہر اک کو میں وہ منزل ہوں جو طے نہ کر سکے کوئی وہ مرحلہ ہوں میں تلاش جس کی مجھے کھو چکی ہے اے غواصؔ اسی کو بحر تحیر میں ڈھونڈھتا ہوں میں





