
Geetanjali Geet
Geetanjali Geet
Geetanjali Geet
Ghazalغزل
dil gayaa saanson kaa ab gham kyaa karein
دل گیا سانسوں کا اب غم کیا کریں تم بتاؤ جاں کہ اب ہم کیا کریں پھول ہے اس کو تو مرجھانا ہی ہے مرتے مرتے خوشبوئیں کم کیا کریں دیکھ کر یہ زلف بادل تو بتا گر نہ برسیں یہ جھما جھم کیا کریں حکمتیں کر تھک چکے سب ہی یہاں عشق سے ہارے وہ ہمدم کیا کریں خامشی میں ہی بھلائی ہے میاں سرپھروں کو اور برہم کیا کریں فیصلے کی نوک پر ہے زندگی یہ گھڑی مرنے کی اب دم کیا کریں دیکھیے کیسی مدد بخشی ہمیں کہہ رہے جی ہم نہیں ہم کیا کریں
zindagi mein aur koi to miri hasrat nahin
زندگی میں اور کوئی تو مری حسرت نہیں وقت تیرا چاہتی ہوں بس تری فرصت نہیں پاک کیا رہنے دیا ہے اس جہاں نے اب بتا جسم سے مطلب اسے ہے روح سے رغبت نہیں راہ میں پتھر ہزاروں وہ کریں تو کیا کریں روکنا ان کا کرم رکنا مری فطرت نہیں اک اذیت میں سلگتی جا رہی ہوں در بہ در اور مجھے اس آگ کی تکلیف سے راحت نہیں بات سنتے بھی نہیں تم اف سمجھتے بھی نہیں مجھ کو پانے کی تمہاری ضد ہے ی الفت نہیں جو کریں نفرت بھری باتیں انا لبریز ہوں کر معاف اے زندگی ایسی مری صحبت نہیں سوئی کا ی کام تلواروں سے کیوں لیتے ہو تم زخم سینا زخم بھرنا ان کی یہ قدرت نہیں
use apnaa banaa kar dekhnaa hai
اسے اپنا بنا کر دیکھنا ہے یہ جوکھم بھی اٹھا کر دیکھنا ہے کریں باتیں دلوں کی ہم دو جاناں جہاں سارا بھلا کر دیکھنا ہے کہ لفظوں کو بنانا ہے ستارے کتابوں کو سجا کر دیکھنا ہے سر محفل کریں جو دل فریبی اب ان کو آزما کر دیکھنا ہے اندھیروں سے نبھانا ہے مجھے اب چراغوں کو بجھا کر دیکھنا ہے
aise haal mein ab tum mere khayaal mein aate ho kaise
ایسے حال میں اب تم میرے خیال میں آتے ہو کیسے اکھڑے اکھڑے سے شب کو تھکے حال میں آتے ہو کیسے آتے ہو تم آدھے ادھورے کیسے مری جانب بولو پورے کے پورے جان تمنا وصال میں آتے ہو کیسے ملتے نہیں ہیں جواب مجھے اے دوست نہ جانے کیوں تم سے اور پھر میں یہ سوچتی ہوں کہ سوال میں آتے ہو کیسے مجھ کو پسند آیا ہے اک انداز تمہارا یہ بھی صنم آنکھوں سے تم ہجر کی شب رومال میں آتے ہو کیسے اے بچھڑے ہوئے ساتھی میرے اے گزرے ہوئے پل بتلاؤ تم ہی تو میرا ماضی ہو تم حال میں آتے ہو کیسے





