Ghail Jaunpuri
nazar ke dasht mein zarra talaash kartaa hai
نظر کے دشت میں ذرہ تلاش کرتا ہے وہ عقل مند ہے ہیرا تلاش کرتا ہے بھروسہ جس کو نہیں خود ہی اپنے بازو پر موافقت کا وہ حلقہ تلاش کرتا ہے بجھا نہ پائے گا اپنی وہ تشنگی ہرگز سراب دشت میں دریا تلاش کرتا ہے فریب کھاتا ہوں میں جان جان کر اکثر نیا نیا وہ بہانہ تلاش کرتا ہے لکیریں پڑھتا ہے ہاتھوں کی اور الجھتا ہے ہتھیلیوں میں خزانہ تلاش کرتا ہے جو زہر اس نے پلایا تھا روح کو اپنی اب اس سے بچنے کا نسخہ تلاش کرتا ہے بڑا عجیب ہے وہ شخص اپنی ہستی میں جو کھو گیا ہے وہ لمحہ تلاش کرتا ہے نہ نیند آتی ہے اس کو نہ جاگتا ہے کبھی نہ جانے کون سی دنیا تلاش کرتا ہے جو شہر آہنی دیوار بن گیا گھائلؔ وہاں وہ پانی کا چشمہ تلاش کرتا ہے