
Ghani Ahmad Ghani
Ghani Ahmad Ghani
Ghani Ahmad Ghani
Ghazalغزل
اب تو وہ بھی مجھ کو تلقین شکیبائی کرے کوئی کس سے شکوۂ آشوب تنہائی کرے گفتگو سب سے بانداز پذیرائی کرے اور سو سو طرح مجھ سے حیلہ آرائی کرے کیا کرے وہ بھی کہ دستور زمانہ ہے یہی بے رخی اپنوں سے غیروں سے شناسائی کرے کیوں ہماری چارہ جوئی کے لئے آئے کوئی کس کو فرصت ہے کہ تکلیف مسیحائی کرے پھر اسی کوئے ملامت کی تمنا دل میں ہے آئے اب کوئی ہماری ہمت افزائی کرے کیا ملا فن کار کو سنگ ملامت کے سوا کیوں لہو دل کا جلائے خامہ فرسائی کرے
ab to vo bhi mujh ko talqin-e-shakebaai kare
نفس آرزو ہے شعلہ طراز سوز احساس تیری عمر دراز خوش ہیں کھا کر فریب عشوۂ ناز کس قدر سادہ دل ہیں اہل نیاز بن گئی گردش جہاں کی حریف حسن کی اک نگاہ فتنہ طراز نام سنتے ہی آشیانے کا لوٹ آئی ہے طاقت پرواز خلش دل بڑھا گئی کچھ اور آپ کی چشم التفات نواز کہیں یہ ان کی رہگزر تو نہیں جھک پڑی ہے غنیؔ جبین نیاز ایک ہی ساز کے ہیں دو نغمے میری خاموشی آپ کی آواز
nafas-e-aarzu hai shoala-taraaz
اپنے ماضی کی طرح اب بھی درخشندہ ہوں نازش حال ہوں صورت گر آئندہ ہوں مار ہی ڈالا تھا افکار جہاں نے مجھ کو یہ مری زندہ دلی ہے کہ ابھی زندہ ہوں تو پشیماں ہے ادھر اپنی ستم کوشی پر میں ادھر شکوۂ بیداد پہ شرمندہ ہوں سارے عالم میں ہے مینارۂ نور اپنا وجود میں اندھیروں میں اجالوں کا نمائندہ ہوں نذر آلام سہی خاک بر اندام سہی میں ستاروں کی طرح پھر بھی درخشندہ ہوں مایۂ ناز ہے مجھ کو یہ توانائیٔ فکر ہے یہی بات کہ میں زندہ و پائندہ ہوں یہی نسبت ہے بہت میرے تعارف کے لئے میں ترا چاہنے والا ترا جوئندہ ہوں اپنے ہی شہر میں کھولی تھی فضاؔ نے آنکھیں فخر ہے مجھ کو اسی شہر کا باشندہ ہوں عمر ساری مری خطرات میں گزری ہے غنیؔ آج بھی میں انہیں حالات میں ہوں زندہ ہوں
apne maazi ki tarah ab bhi darakhshanda huun
تم آ گئے جو یہاں رات کے اندھیرے میں ہیں چاندنی کا سماں رات کے اندھیرے میں تمہیں ہے شوق بہت تتلیاں پکڑنے کا پھرو نہ یوں مری جاں رات کے اندھیرے میں بھٹکتی پھرتی ہیں روحیں اندھیری راتوں میں نکل پڑے ہو کہاں رات کے اندھیرے میں تمہاری یاد نے دل کش بنا دیا ورنہ یہ دل کشی تھی کہاں رات کے اندھیرے میں یہاں تو دن کے اجالے میں لوگ ڈرتے ہیں کہاں چلے ہو میاں رات کے اندھیرے میں مرا حریف مخاطب ہے مجھ سے یوں جیسے صدائے شور سگاں رات کے اندھیرے میں جب آ گئی ہے طبیعت تو فکر کیا واعظ ملے گا کون یہاں رات کے اندھیرے میں یہ کس خیال میں گھر سے نکل پڑے ہو غنیؔ سکوں ملے گا کہاں رات کے اندھیرے میں
tum aa gae jo yahaan raat ke andhere mein
وہ تیرے التفات کا موسم گزر گیا اچھا ہوا یہ بوجھ بھی سر سے اتر گیا تھا منحصر خرابی دل پر سکون زیست بگڑے ہم اس طرح کہ زمانہ سنور گیا اب چشم آرزو میں کوئی داستاں نہیں افسانۂ حیات کوئی ختم کر گیا جیسے نسیم چھو کے گزر جائے کوئی پھول تیرا خیال یوں مرے دل سے گزر گیا اے خون آرزو ترا احسان کیا کہوں تو کشت آرزو مری شاداب کر گیا بزم وفا میں وہ ہمہ تن گوش تھے مگر ہونٹوں تک آ کے حرف تمنا کدھر گیا عمر بہار اور غنیؔ اتنی مختصر جھپکی جو آنکھ قافلۂ دل گزر گیا کیا پوچھتے ہو تم خلش دل کا ماجرا دامان آرزو کوئی کانٹوں سے بھر گیا
vo tere iltifaat kaa mausam guzar gayaa
وہ کیوں مغموم و دل برداشتہ ہیں یہ سارے زخم تو خود ساختہ ہیں وہ ہم پر مہرباں بے ساختہ ہیں مگر ہم ہیں کہ دل برداشتہ ہیں مرے کچھ ہم سفر ہم راہ میرے اگر ہیں بادل نا خواستہ ہیں اٹھاتے ہیں وہ ہم پر انگلیاں اب جو اپنے ساختہ پرداختہ ہیں کہاں اب جائیں نکتہ چیں ہمارے شکستہ دل ہزیمت یافتہ ہیں مرے اشعار دل میں کیوں نہ اتریں کہ برجستہ قلم برداشتہ ہیں تم اپنی راہ لو ناصح نہ الجھو ہمارا کیا ہے ہم جاں باختہ ہیں عنایت کم نہیں ہم پر فضا کی بڑی حد تک تو ہم خود ساختہ ہیں یہی ناکامیاں ہیں اپنی منزل یہی دشواریاں ہی راستہ ہیں جہاں میں قحط صلح و آشتی ہے جدھر دیکھو صفیں آراستہ ہیں ارادے ہیں غنیؔ صاحب کدھر کے بہت آراستہ پیراستہ ہیں
vo kyon maghmum-o-dil-bardashta hain





