SHAWORDS
Ghani Ghayoor

Ghani Ghayoor

Ghani Ghayoor

Ghani Ghayoor

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

برستے روز پتھر دیکھتا ہوں یہی رونا میں گھر گھر دیکھتا ہوں نکل کر خود سے باہر دیکھتا ہوں سمندر اپنے اندر دیکھتا ہوں اپج دگنا ہے تجھ سے اب کے میرا میں تیرے ساتھ مل کر دیکھتا ہوں نظر آتا ہے منظر اور کوئی جگہ اپنی سے اٹھ کر دیکھتا ہوں حساب اپنا یہاں سب دے رہے ہیں بپا ہر سمت محشر دیکھتا ہوں جسے تم لوگ بہتر کہہ رہے ہو وہی ابتر سے ابتر دیکھتا ہوں الگ انداز میرا زاویہ بھی تری دنیا سے ہٹ کر دیکھتا ہوں غنی ہے اصل اشیا اور ہی کچھ تمہارے خیر کو شر دیکھتا ہوں

baraste roz patthar dekhtaa huun

غزل · Ghazal

باغی حدود سے بہت آگے نکل گئے سورج چھوا نہ تھا کہ مرے ہاتھ جل گئے یہ حیرتوں کے بیچ میں حیرت زدہ نقوش کیسے تماشبین تھے پتھر میں ڈھل گئے جذبات میں کچھ اس طرح اس کا بدن تھا سرخ زنجیر آہنی کے کڑے ہی پگھل گئے بگلوں سے ان کے روپ بھگت بن کے آئے کچھ مکھی کو یار چھوڑ کے ہاتھی نگل گئے ٹیلے سے قہقہوں کی پھواروں میں تھے غنیؔ تیر ایک آنکھ والے اچانک اچھل گئے

baaghi hudud se bahut aage nikal gae

غزل · Ghazal

خضر جیسا ہے راہبر مجھ میں مجھ کو درپیش ہے سفر مجھ میں کشتی و نا خدا بہت خطرے کئی طوفاں کئی بھنور مجھ میں خون سے تر بہ تر گلی کوچے دست قاتل ہے زور پر مجھ میں کوئی تیشہ بدست پھرتا ہے قریہ قریہ ہے بس شرر مجھ میں جس طرح سے ہرن پہاڑوں پر لوٹ کر آتا ہے ہنر مجھ میں

khizr jaisaa hai raahbar mujh mein

غزل · Ghazal

ہمارے شہر کا دستور بابا پریشاں حال ہر مزدور بابا ہوئے خلوت نشیں ہیں لوگ کامل جو ناقص ہیں وہی مشہور بابا نہیں دیکھے کسی نے ان کے چہرے کہاں غلماں کہاں ہے حور بابا چلے ہیں حصہ لینے دوڑ میں پھر ہمارے شہر کے معذور بابا مجھے یاد آ رہی ہے مصحفیؔ کی غضب تھے میرؔ بھی مغفور بابا

hamaare shahr kaa dastur baabaa

غزل · Ghazal

آنسوؤں کو روکتا ہوں دیر تک دھند میں کیا دیکھتا ہوں دیر تک کھل گئی الفاظ کی ہیں کھڑکیاں کھڑکیوں سے جھانکتا ہوں دیر تک پیڑ سے عشق گلہری دیکھ کر اس گلی میں دوڑتا ہوں دیر تک خامشی بھی کوئی جھرنا ہے اگر کس لئے پھر بولتا ہوں دیر تک چیونٹیوں کے بل میں پانی ڈال کر کیوں تماشا دیکھتا ہوں دیر تک

aansuon ko roktaa huun der tak

غزل · Ghazal

شام تک بند رہتا ہے کمرہ مرا اور کمرے میں تنہا کھلونا مرا دن کو اجلی ردا اوڑھ لیتا ہوں میں دیکھنا رات کو پھر تماشا مرا سچ کہا تھا سبھی مجھ سے ناراض ہیں اب کسی سے نہیں رشتہ ناطہ مرا اپنے شعروں پہ مجھ کو بڑا فخر ہے جانے کیا گل کھلائے گا چرچا مرا دو برس کا ہوں طفل کتابی غنیؔ ہو گیا کتنا بھاری ہے بستہ مرا

shaam tak band rahtaa hai kamra miraa

Similar Poets