
Ghaus Siwani
Ghaus Siwani
Ghaus Siwani
Ghazalغزل
dil ki nayyaa do nainon ke moh mein Duubi jaae
دل کی نیا دو نینوں کے موہ میں ڈوبی جائے ڈگ مگ ڈولے ہائے رے نیا ڈگ مگ ڈولے ہائے کالے کالے میگھا برسیں کل دھرتی مسکائے سوندھی ماٹی کی خوشبو سے سارا جگ بھر جائے تن بھی بھیگے من بھی بھیگے ساون رس برسائے شیتل شیتل جل برہن کے من میں آگ لگائے یہ موسم پاگل پرویا من مدرا چھلکائے بن چٹھی بن پاتی کے ہی کاش سجن آ جائے گوری سن کے نام سجن کا ہولے سے شرمائے جیسے گگن پہ صبح سویرے پہلی کرن لہرائے خوشبو کا وہ جھونکا بن کے صحن چمن مہکائے مے خانے میں بن کے نشہ وہ ہر دل پہ چھا جائے
bhigi bhigi barkhaa rut ke manzar giile yaad karo
بھیگی بھیگی برکھا رت کے منظر گیلے یاد کرو دو ہونٹ رسیلے یاد کرو دو نین کٹیلے یاد کرو تم ساتھ ہمارے چلتے تھے صحرا بھی سہانا لگتا تھا گل پوش دکھائی دیتے تھے سب ریت کے ٹیلے یاد کرو گھنگرو کی صدائیں آتی تھیں سنتور کبھی بج اٹھتے تھے ماحول میں گونجا کرتے تھے سنگیت رسیلے یاد کرو ہم بھی تھے کچھ بے خود سے تم بھی تھے مدہوش بہت اور احساس کی چولی کے کچھ بند تھے ڈھیلے یاد کرو وہ پیار بھری اک منزل تھی تا حد نظر تھے پھول کھلے تن من میں جوالا بھرتے تھے منظر رنگیلے یاد کرو
tumhaare shahr mein aangan nahin hai
تمہارے شہر میں آنگن نہیں ہے کہیں تلسی نہیں چندن نہیں ہے کلب میں ملتے ہیں رادھا کنھیا کہ جمنا تٹ نہیں مدھوبن نہیں ہے یہاں ہر اور آتش ہے دھواں ہے کہیں بھی آج کل ساون نہیں ہے امیری کا بدن سونے سے پیلا غریبی کے لئے اترن نہیں ہے وہ دیکھیں کس طرح دل کی سیاہی کہ ان کے پاس اب درپن نہیں ہے
kaisaa hogaa des piyaa kaa kaisaa piyaa kaa gaanv re
کیسا ہوگا دیس پیا کا کیسا پیا کا گاؤں رے کیسی ہوگی دھوپ وہاں کی کیسی وہاں کی چھاؤں رے چاندی جیسے پیڑ وہاں کے ہیرے موتی پھول و پھل سونے کی پیلی دھرتی پر رکھتے ہوں گے پاؤں رے پی پی پپیہے بولتے ہوں گے کانوں میں رس گھولتے ہوں گے ٹھمری ہوگی کوئل کی کو کجری کاگا کی کاؤں رے کانہا ہوں گے لوگ وہاں کے رادھا ہوں گی بالائیں پیار کی بنسی بجتی ہوگی ہر ایک سمے ہر ٹھاؤں رے لاج سے ہائے مر جاؤں گی میں مٹی میں گڑ جاؤں گی جب سکھیاں مجھ کو چھیڑیں گی لے کر پی کا ناؤں رے





