Ghazal Ansari
Ghazal Ansari
Ghazal Ansari
Ghazalغزل
اب زندگی کا کوئی سہارا نہیں رہا سب غیر ہیں کوئی بھی ہمارا نہیں رہا اغیار کی نظر میں رہے مثل خار ہم اب جینا جاگنا بھی ہمارا نہیں رہا صوبائی عصبیت نے کھلائے کچھ ایسے گل اب بھائی بھائی کا بھی سہارا نہیں رہا اب تو ہماری ناؤ ہے طغیانیوں کے بیچ نزدیک و دور کوئی کنارا نہیں رہا خون جگر سے سینچا تھا ہم نے جو اک شجر ہاں اب تو وہ شجر بھی ہمارا نہیں رہا چن چن کے تنکے ہم نے بنایا تھا آشیاں یہ کیا غضب وہ گھر بھی ہمارا نہیں رہا ماضی کی کچھ حسین سی یادیں ہی رہ گئیں آنکھوں میں اور کوئی نظارہ نہیں رہا اہل چمن یہ کہتے ہیں آگے بڑھوں غزلؔ اب کوئی حق چمن یہ تمہارا نہیں رہا
ab zindagi kaa koi sahaaraa nahin rahaa
غیروں کی بستیوں میں رہنے کو آ رہے ہیں اس دل کو چھوڑ کر ہم دنیا بنا رہے ہیں سکھیاں سہیلیاں وہ گزرا جہاں لڑکپن بیٹھے بٹھائے اب کیوں سب یاد آ رہے ہیں روزی کی جستجو میں اپنوں کو چھوڑ چلنا ماضی کے سارے منظر آنکھوں پہ چھا رہے ہیں روکا تھا سب نے ہم کو لیکن نہ رک سکے ہم اب اجنبی زمیں کے دکھ راس آ رہے ہیں آنکھوں پہ چھا رہی ہے برکھا گئے دنوں کی گزرے دنوں کے قصے پھر دل جلا رہے ہیں مٹی کی سوندھی خوشبو پھر یاد آ رہی ہے ملہار وہ رتوں کے خود کو سنا رہے ہیں خوشیوں سے خود کو کتنی محروم کر لیا ہے پردیس میں غزلؔ کیوں ہم رنج اٹھا رہے ہیں
ghairon ki bastiyon mein rahne ko aa rahe hain
بھلانا ہے بہت مشکل مگر پھر بھی بھلانا ہے تری یادوں کو دل سے اب تو ہر صورت مٹانا ہے بہت رسوائیاں سہہ لیں دل برباد کی خاطر مگر الفت پنپ سکتی نہیں ایسا زمانہ ہے مرا دامن پکڑ لیتی ہیں وہ معصوم سی یادیں مرے جیون میں تیری یاد ہی واحد خزانہ ہے تو آنکھوں میں تو یادوں میں تو ہر دم میرے خوابوں میں کھلے جب آنکھ تو ہر سو وہی منظر پرانا ہے ملائے عشق جو رب سے غزلؔ ہے عشق وہ سچا خدا سے لو لگا لے پھر نہیں کچھ یاد آنا ہے
bhulaanaa hai bahut mushkil magar phir bhi bhulaanaa hai
بپھرے دریا کی روانی سے نکل آئے ہیں ہم بنا بھیگے ہی پانی سے نکل آئے ہیں شکر ہے اتنے سمجھ دار ہوئے ہیں بچے راجا رانی کی کہانی سے نکل آئے ہیں آئنہ دیکھ کے حیران ہوا ہے کیا کیا آنکھ جھپکی تو جوانی سے نکل آئے ہیں کینہ رکھ کر تو ملا کرتا تھا ہم سے اکثر ہم تری چرب زبانی سے نکل آئے ہیں سن لے اے ہم کو تن آسان سمجھنے والے ہم دبے پاؤں کہانی سے نکل آئے ہیں ہم کہ ہجرت کے عذابوں سے گزرنے والے آخرش نقل مکانی سے نکل آئے ہیں آپ کے نقش مٹانے کی سعی لا حاصل آپ پھر میری کہانی سے نکل آئے ہیں زندگی اب نئی الجھن میں نہ الجھا ہم کو ہم تری شعلہ بیانی سے نکل آئے ہیں کس طرح آئے یقیں اب تری باتوں پہ غزلؔ ہم تری شوخ بیانی سے نکل آئے ہیں
biphre dariyaa ki ravaani se nikal aae hain
ایسی تحریر جو آنسو کی جھڑی ثابت ہو پھر توقع کہ محبت بھی کڑی ثابت ہو کیوں بچھاتے ہو مری راہ میں لفظی کانٹے دو وہ پیغام جو موتی کی لڑی ثابت ہو تیری شمشیر کا شاخ گل الفت پہ ہو وار کیسے ممکن کہ وہ پھولوں کی چھڑی ثابت ہو بے نیازی تری بڑھتی ہی رہی روز و شب تیری فرقت میں کوئی اچھی گھڑی ثابت ہو موت آنی ہے تو آ جائے کسی دن لیکن زندگی بھی کبھی راہوں میں پڑی ثابت ہو کاش آ جائے یقیں میری محبت کا تجھے میری چاہت تری ہر شے سے بڑی ثابت ہو روٹھ کر جب میں چلوں راہ عدم کی جانب راہ روکے تری آواز کھڑی ثابت ہو دل میں چاہت ہے غزلؔ صرف تجھے پانے کی کوئی تو وصل کی انمول گھڑی ثابت ہو
aisi tahrir jo aansu ki jhaDi saabit ho
نہ فکر کرنا ہمارے دل کی نہ اس جنوں کا ملال رکھنا یہ التجا ہے ہماری تم سے تم اپنے دل کو سنبھال رکھنا وہ شام غم جو گزاری ہم نے کوئی گزارے تو جان پائے کٹھن ہے کتنا ہے کیسا مشکل اٹھا کے ماضی میں حال رکھنا کوئی صحیفہ سمجھ کے رکھا تمہارے خط کو چھپا کے دل میں مری محبت کو اپنے دل میں ہمیشہ تم لا زوال رکھنا تمہی کو چاہا تمہی کو پوجا تمہی کو دل میں سجا کے رکھا یہی ہے شیوہ یہی وطیرہ نظر میں تیرا جمال رکھنا اجالا کرتے تمہارے گھر میں جو بس میں ہوتا غزلؔ ہمارے دعا ہماری ہے عمر ساری خودی کو تم با کمال رکھنا
na fikr karnaa hamaare dil ki na us junun kaa malaal rakhnaa





