SHAWORDS
G

Ghulam Dastageer Sharar

Ghulam Dastageer Sharar

Ghulam Dastageer Sharar

poet
12Ghazal

Ghazalغزل

See all 12
غزل · Ghazal

دل و دماغ کو تسکین اضطراب تو دے مرے سوالوں کا آخر کوئی جواب تو دے پگھل نہ جائے کہیں آنچ سے تو قربت کی بڑھا کے فاصلے کچھ رنگ اجتناب تو دے تصورات میں روشن ہو چاند سا چہرہ شب سیاہ کی آنکھوں میں نور خواب تو دے سجا بنا ہوا چہرہ شرارتی آنکھیں جگا رہی ہیں یہ فتنے انہیں حجاب تو دے شمار کرتا ہے غیروں کے ہی گناہوں کو کبھی تو اپنی خطاؤں کا بھی حساب تو دے ہمیشہ خار نگاہوں سے دیکھتا ہے مجھے کبھی زبان سے کھلتے ہوئے گلاب تو دے ہر اک ورق پہ رقم نفرتیں ملیں ہم کو کبھی زبان سے کھلتے ہوئے گلاب تو دے شعاع علم سے روشن شررؔ ہے یہ دنیا زوال جس کو نہ ہو ایسا آفتاب تو دے

dil-o-dimaagh ko taskin-e-iztiraab to de

1 views

غزل · Ghazal

ان کی آنکھوں میں جو نمی سی ہے بات دل پر کوئی لگی سی ہے یوں مرے گھر میں کیا نہیں موجود ایک تیری ہی بس کمی سی ہے ذہن میں ہے کسی کے حسن کا عکس دل کے اطراف روشنی سی ہے ہر نفس ہے کسی کے نام کا درد زندگی جیسے بندگی سی ہے حسن کا بانکپن ارے توبہ جیسے تلوار اک کھنچی سی ہے قرب ان کا شررؔ پیام سکوں دل میں اک آگ بھی لگی سی ہے

un ki aankhon mein jo nami si hai

1 views

غزل · Ghazal

دل پر جو گزرتے ہیں وہ غم دیکھ رہے ہیں اپنوں کی عنایات و کرم دیکھ رہے ہیں نزدیک ہیں وہ جاگ اٹھا اپنا مقدر یہ خواب کھلی آنکھوں سے ہم دیکھ رہے ہیں شب خواب میں رویا تھا کوئی ہم سے لپٹ کر ہم صبح کے دامن کو بھی نم دیکھ رہے ہیں یہ اور ہیں دن وقت گیا بت شکنی کا سجتے ہوئے پتھر کے صنم دیکھ رہے ہیں ملتی نہیں جن کو مرے محبوب کی چوکھٹ اوروں کے نشانات قدم دیکھ رہے ہیں فن بیچنا پڑتا ہے شررؔ حسن ضرورت بے چارگیٔ اہل قلم دیکھ رہے ہیں

dil par jo guzarte hain vo gham dekh rahe hain

1 views

غزل · Ghazal

تمہارے میکدے میں جب قدم رکھ دیں گے دیوانے صراحی کانپ جائے گی لرز جائیں گے پیمانے وہ شمع جس کو احساس محبت تک نہیں ہوتا خدا جانے اسی پر کیوں مرے جاتے ہیں پروانے ترے محتاج کوئی اور ہوں گے ہم نہیں ساقی جہاں ہم ہیں وہاں خود کھنچ کے آ جاتے ہیں پیمانے مرے دو چار تنکوں نے رکھی ہے لاج گلشن کی وگرنہ برق جاتی کس کے آگے ہاتھ پھیلانے اگر خاموش رہتے ہیں وفا بدنام ہوتی ہے جو کہتے ہیں تو اپنے راز ہو جاتے ہیں بیگانے برے پہچانے جاتے ہیں پھلوں کے ساتھ ہی اکثر چمن میں ہوں نہ گر کانٹے گلوں کو کون پہچانے یہ دنیا چند روزہ ہے شرر کچھ کام ہی کر لو یہ دن آخر گزر جائیں گے رہ جائیں گے افسانے

tumhaare mai-kade mein jab qadam rakh deinge divaane

غزل · Ghazal

دنیا میں رنگ و نور کی کوئی کمی نہ تھی بس ایک شہر دل تھا جہاں روشنی نہ تھی کیا کہہ گئے تھے تم یہ تمہیں ہوش بھی نہ تھا چپ رہ گئے تھے ہم تو کوئی بات ہی نہ تھی بچھڑے تھے بھیڑ میں وہ ہمیشہ کے ہم سفر پھر کچھ خبر کسی کی کسی کو ملی نہ تھی کس نے یہ شہر امن میں نیزے سجا دیے پہلے تو یوں سروں کی نمائش لگی نہ تھی ہر دور اہل دور کے چہروں کا آئنہ جب ہم برے نہ تھے تو یہ دنیا بری نہ تھی بس آ گیا تھا کوچ کا ہنگام ناگہاں مجھ کو تو سوچنے کی بھی مہلت ملی نہ تھی پہلے بھی یوں جلے تھے شررؔ اپنے آشیاں صیاد کے مکان پہ بجلی گری نہ تھی

duniyaa mein rang-o-nur ki koi kami na thi

غزل · Ghazal

ہماری بادہ کشی سے واقف نہیں ہے شاید ابھی زمانہ ہم ایک ساغر میں جب بھی چاہیں ڈبو کے رکھ دیں شراب خانہ تمہاری نظر کرم کا سایہ رہے جو یوں مجھ پہ غائبانہ میں پھیر دوں حادثوں کے رخ ہی میں روک دوں گردش زمانہ جو تم چلو جھوم اٹھیں فضائیں رکو تو رک جائے نبض عالم جہاں تم اپنی نظر جھکا دو وہیں ٹھہر جائے گا زمانہ نگاہ مخمور کی وہ مستی چھڑا دے رندوں سے مے پرستی جسے نگاہوں سے تم پلا دو وہ بھول جائے شراب خانہ یہ حسن والے جفا کے ماہر وفا کی تسکین دے رہے ہیں فریب کتنا ہے خوب صورت حسین ہے کس قدر بہانہ ابھی تو دل میں تمہاری یادوں کی مشعلیں جل رہی ہیں پیہم چراغ داغ جگر ہیں روشن سجا ہوا ہے غریب خانہ دیا ہے جو دعوت نظارہ تو تاب نظارگی بھی دے دو وگرنہ اہل جہاں نہ دہرائیں پھر وہی طور کا فسانہ ہوائیں کچھ گرم ہو رہی ہیں سب اپنے دامن بچائے رکھیں کہیں شررؔ کی ذرا سی لغزش نہ پھونک دے یہ نگار خانہ

hamaari baada-kashi se vaaqif nahin hai shaayad abhi zamaana

Similar Poets