Ghulam Husain Ayaz
Ghulam Husain Ayaz
Ghulam Husain Ayaz
Ghazalغزل
داستان درد دل اہل وفا کہنے لگے یعنی ہر آواز کو تیری صدا کہنے لگے لیجئے پھر توڑ دی یاروں نے زنجیر سکوت لیجئے ہم زندگی کا مرثیہ کہنے لگے یہ بھی اپنی تنگ نظری کی ہے اک واضح دلیل ہم جو ہر چہرے کو اب اک آئنہ کہنے لگے پھر نئی تہذیب کا اک باب روشن ہو گیا لوگ پھر اب داستان ارتقا کہنے لگے اتنی آوارہ مزاجی بھی ایازؔ اچھی نہیں دیکھ تیرے بارے میں اب لوگ کیا کہنے لگے
daastaan-e-dard-e-dil ahl-e-vafaa kahne lage
فصیل جسم کی اونچائی سے اتر جائیں تو اس خرابے سے ہم لوگ پھر کدھر جائیں ہوا بتاتی ہے گزرے گا کارواں کوئی کچھ اور دیر اسی راہ پر ٹھہر جائیں تمام دن تو لہو چاٹتا رہا سورج ہوئی ہے شام چلو اپنے اپنے گھر جائیں کبھی تو کوئی لہو کے دئیے جلائے گا چلو نشان قدم اپنا چھوڑ کر جائیں ابھی صدا نہ دو کچھ دیر اور سورج کو یہ جتنی سوکھی ہوئی ندیاں ہیں بھر جائیں یہ شش جہت تو بس اک نقش پا کا وقفہ ہے تمہیں بتاؤ کہاں آ کے ہم ٹھہر جائیں ایازؔ ہم کو نہ اپنا سکی کبھی دنیا وہی صدا ہے تعاقب میں ہم جدھر جائیں
fasil-e-jism ki unchaai se utar jaaein
زیست کا خالی کٹورا آپ ہی بھر جائے گا اپنے ہی جیسا کسی دن وہ مجھے کر جائے گا شہر میں کوئی نہ رہ پائے گا بے نام و نشاں جس طرف شیشے کی یورش ہوگی پتھر جائے گا ندیاں اب بھاگتی پھرتی ہیں صحرا کی طرف اب تو دریا کے تعاقب میں سمندر جائے گا کھو چکے ہیں لوگ اپنے اپنے چہروں کا وقار جو بھی جائے گا ترا ہم شکل بن کر جائے گا وہ اتروا لے گا ہونٹوں سے لباس خامشی وہ یہاں کوئی نہ کوئی گل کھلا کر جائے گا میں ہوں اپنے دور کے اک صاحب فن کا کمال آنے والا مجھ پہ دو آنسو بہا کر جائے گا جتنی دوری سے صدا دیتے ہیں مجھ کو وہ ایازؔ اس بلندی پر کہاں میرا مقدر جائے گا
ziist kaa khaali kaToraa aap hi bhar jaaegaa





