Ghulam Mohammad Safeer
vaqt se ham gila nahin karte
وقت سے ہم گلہ نہیں کرتے کام کوئی برا نہیں کرتے اشک بھی ہوں رخ تبسم پر زندگی یوں جیا نہیں کرتے حسن والو ذرا بتاؤ نا کیوں کسی سے وفا نہیں کرتے کچھ تو پاتے ہی ہوں گے پروانے بے وجہ ہی جلا نہیں کرتے دل ہے یارا کوئی مکان نہیں ہر کسی کو دیا نہیں کرتے عشق کی ابتدا ہے تم سے اگر مجھ پہ کیوں انتہا نہیں کرتے مسکرانا تو بھول ہی جاؤ اشک بھی اب بہا نہیں کرتے تم کو آسان ہے بھلا دینا ہم مگر یہ کیا نہیں کرتے اشک پینے کی لت لگی ہو جنہیں جام فرحت پیا نہیں کرتے جن کے دل میں جنون و الفت ہو شوق خندہ رکھا نہیں کرتے ماہ کامل ہو تم ہو اور میں ہوں یہ نظارے دکھا نہیں کرتے میں برا ہوں مگر انوکھا ہوں میرے جیسے ملا نہیں کرتے خاص ہوتی ہیں باتیں کچھ اپنی سب سے سب کچھ کہا نہیں کرتے درد نے سب سکھا دیا ہے سفیرؔ ورنہ ہم تو لکھا نہیں کرتے