SHAWORDS
Ghyanender Aggarwal

Ghyanender Aggarwal

Ghyanender Aggarwal

Ghyanender Aggarwal

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

aadmi dikhtaa nahin is shahr mein

آدمی دکھتا نہیں اس شہر میں اب کوئی اپنا نہیں اس شہر میں ہر طرف بیساکھیوں کا شور ہے کوئی بھی چلتا نہیں اس شہر میں شبد ارتھوں کو ترستے ہیں یہاں کیا سخن زندہ نہیں اس شہر میں ہو گیا غائب دوپٹوں کا چلن آج کل پردا نہیں اس شہر میں جو ہوئے ظالم ویوستھا کے شکار ان کی بھی چرچا نہیں اس شہر میں ہر طرف گلیوں میں سناٹا سا ہے کچھ کہیں ہوتا نہیں اس شہر میں

غزل · Ghazal

tum ne kitaab bheji thi ham us ko paDh gae

تم نے کتاب بھیجی تھی ہم اس کو پڑھ گئے اب گھیرتے ہیں ذہن کو یادوں کے قافلے ہم وقت کے تقاضے پہ ہرگز نہ جی سکے یہ اور بات ہے کہ ہوئے تلخ تجربے کتنا بڑا جہان ہے بالکل پتا نہ تھا ہم اپنے ہی بنائے گھروندوں میں قید تھے آنکھوں کے ارد گرد کے چہرے ابھر اٹھے جب یاد آئے ٹیس کی صورت وہ حادثے اس کے سبھی خطوں کی مہک اور بڑھ گئی تکیے سے سر نکال کے رومال جب ہنسے اب یاد آ رہی ہے اسی کشمکش کی بات کچھ کام تو نہیں تھا مگر پھر بھی چل پڑے تم تک پہنچ سکیں گے یہ امید تو نہ تھی کیا اتفاق تھا کہ بہت پاس آ گئے

غزل · Ghazal

shaakh patton ko thapak kar baanh mein gahne lagi

شاخ پتوں کو تھپک کر بانہہ میں گہنے لگی دل کی آنکھوں سے ورہ کی اک ندی بہنے لگی لمحہ لمحہ جو بہت بے چین تھا خوش ہو گیا درد کی دیوار اپنے آپ ہی ڈھہنے لگی جو نظر تنہا کھڑی تھی وقت کے دالان میں پھر نئے احساس کی پرچھائیاں پہنے لگی پیاس تھی خوددار اس نے ہاتھ پھیلائے نہیں مسکرا کر آبشاروں کے ستم سہنے لگی خود بہ خود لکھنے لگے دنیا کے قصہ گو سبھی ہر قلم پھر سے نئے انداز میں رہنے لگی مل گئے تو مل ہی لیں گے اس سفر کا کیا پتہ اس بڑے قالین سے آوارگی کہنے لگی

غزل · Ghazal

tanhaaiyon mein koi bhi shaamil nahin milaa

تنہائیوں میں کوئی بھی شامل نہیں ملا جسموں کی بھیڑ مل گئی پر دل نہیں ملا سب مل گیا کسی سے شکایت نہیں رہی جس کی تلاش تھی وہی حاصل نہیں ملا دیوار و در نے زخم تو ہرگز نہیں دئے کمرے کا پیار خود میں مکمل نہیں ملا دہلیز سے سٹے ہوئے کچھ پیڑ تو ملے ڈھونڈا بہت پرندوں کا قاتل نہیں ملا

غزل · Ghazal

haadse-dar-haadse hote gae

حادثے در حادثے ہوتے گئے دھیرے دھیرے ہم سفر کھوتے گئے منزلوں کی مہربانی تھی نہیں بے سبب مایوسیاں ڈھوتے گئے کھیت بنجر تھا پسینہ پی گیا پھر بھی اپنی مفلسی بوتے گئے ایک ناٹک منچ پر ایسا چلا لوگ ہنسنا چاہ کر روتے گئے ساری دنیا رات بھر سوئی نہیں اور لمحے نیند سے ہو کر گئے

غزل · Ghazal

tufaanon se jo ghabraa kar baiThe hain

طوفانوں سے جو گھبرا کر بیٹھے ہیں لہروں میں کشتیاں ڈبا کر بیٹھے ہیں شاید ان کو کوئی پار لگا دے گا سبھی مسافر آس لگا کر بیٹھے ہیں صبح ہوئی تو پھر سے بانگ لگائیں گے بھوکے مرغے پیٹ پھلا کر بیٹھے ہیں جنہیں ضرورت ان کو موت نہیں آتی وہ سب کالے کوے کھا کر بیٹھے ہیں اونچا اڑنے سے پہلے کٹ جاتی ہے کٹی پتنگ پہ منہ لٹکا کر بیٹھے ہیں چڑیاں ہانپ رہی ہیں گرم منڈیروں پر بادل سورج سے شرما کر بیٹھے ہیں

Similar Poets