
Girija Wiyas
Girija Wiyas
Girija Wiyas
Ghazalغزل
کسی سے خواب کا چرچا نہ کرنا تمناؤں کو بے پردا نہ کرنا زمانہ لاکھ بہکائے مگر تم وفاؤں کا کبھی سودا نہ کرنا خطاؤں کی سزا آخر ملے گی رلائے گا اسے توبہ نہ کرنا بچھڑتے وقت آنسو روک لینا تم اپنے آپ کو رسوا نہ کرنا تمہیں اچھی طرح پہچانتی ہوں وفا کا مجھ سے تم وعدہ نہ کرنا
kisi se khvaab kaa charchaa na karnaa
آنکھوں میں نئے رنگ سجانے نہیں اترے اک عمر ہوئی خواب سہانے نہیں اترے آکاش پہ اڑتے رہے پانی کے پرندے کھیتوں کی مرے پیاس بجھانے نہیں اترے ہر موج تھی بے چین بہکنے کو کبھی سے خود آپ ہی دریا میں نہانے نہیں اترے بے نور ہیں چہرے یہاں مایوس ہے ہر دل امید کی کرنوں کے خزانے نہیں اترے وعدہ کیا کس طرح وفا آپ نے اس بار کیا ذہن کی وادی میں بہانے نہیں اترے
aankhon mein nae rang sajaane nahin utre
توڑ سکو تم شاخ سے مجھ کو ایسی تو میں کلی نہیں ہوں روک سکو تم میری راہیں اتنی اتھلی ندی نہیں ہوں میری باتیں سیدھی سادی مکاری سے بھرے ہوئے تم میرے پاس تو سچائی ہے جھوٹ کپٹ سے بندھی نہیں ہوں بنے ہیں میں نے اپنے سپنے خود ہی اپنی راہ بنائی راہ سے تم بھٹکا دو مجھ کو نیند میں ایسی گھری نہیں ہوں نیل گگن ہے میری طاقت دھرتی مجھ کو تھامے رکھتی کوئی آندھی مجھے اڑائے تنکوں کی میں بنی نہیں ہوں تم بھی ظلم کہاں تک کرتے میں بھی انہیں کہاں تک سہتی تم بھی اتنے برے نہیں ہو میں بھی ایسی بھلی نہیں ہوں
toD sako tum shaakh se mujh ko aisi to main kali nahin huun
اک تو ہی برباد نہیں کوئی یہاں آباد نہیں میرا دکھ ہے میں جانوں تجھ سے تو فریاد نہیں غم کی ماری دنیا میں کون ہے جو ناشاد نہیں سب ہیں اس کے قبضے میں کوئی یہاں آزاد نہیں ڈر مت اے پنچھی مجھ سے ساتھی ہوں صیاد نہیں
ik tu hi barbaad nahin
خنجر کو رگ جاں سے گزرنے نہیں دے گا وہ شخص مجھے چین سے مرنے نہیں دے گا پھر کوئی نئی آس وہ دے جائے گا دل کو ٹوٹے ہوئے شیشے کو بکھرنے نہیں دے گا دن ڈھلتے نکل آئے گا پھر یاد کا سورج سایہ مرے آنگن میں اترنے نہیں دے گا ہر شخص کو مہمان بنا لے گا وہ لیکن مجھ کو کبھی گھر اپنے ٹھہرنے نہیں دے گا رکھے گا نہ شانے پہ مرے ہاتھ وہ اپنا زخموں کو مرے دل کے وہ بھرنے نہیں دے گا
khanjar ko rag-e-jaan se guzarne nahin degaa
آنکھ میں آنسو ٹھہرا ہے دل پر غم کا پہرا ہے اک دن بھر ہی جائے گا گھاؤ جو دل میں گہرا ہے میری چاروں سمت ابھی رنج و الم کا صحرا ہے خوف کہاں میرے دل میں یہ سردی کا لہرا ہے میری بات پہ کیوں چپ ہے کیا تو گونگا بہرا ہے
aankh mein aansu Thahraa hai





