SHAWORDS
Gitesh Dube Geet

Gitesh Dube Geet

Gitesh Dube Geet

Gitesh Dube Geet

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

خواب ٹوٹا سحر کے ہوتے ہی رہ گئے ہم یوں ہاتھ ملتے ہی اب کے سیلاب بھی بہے شاید ابر برسیں گے یاد کرتے ہی بارہا دل کو صاف کر دیکھا پھر سے ابھرا ہے عکس دھلتے ہی بن گیا ہے چمن وہ صحرا اب اس کے بوسوں کے لمس ملتے ہی گیت اب حرف سب بنے موتی آنسوؤں کے غزل میں ڈھلتے ہی

khvaab TuuTaa sahar ke hote hi

غزل · Ghazal

یہ محبت بھی اک سزا تو ہے دل معصوم کی خطا تو ہے شکر ہے گھر میں آئینہ تو ہے گفتگو کے لئے خلا تو ہے عشق کے آسماں پہ جا پہنچا لگ گئی ہے اسے ہوا تو ہے زخم مل بھی گئے تو کیا غم ہے تیرا ہونا بھی اک دوا تو ہے جب لبوں پر ہنسی نمایاں ہو سمجھو پیچھے کوئی دعا تو ہے فاصلے یوں نہیں ہوا کرتے درمیاں کچھ نہ کچھ ہوا تو ہے

ye mohabbat bhi ik sazaa to hai

غزل · Ghazal

جدھر دیکھتا ہوں نظارہ ترا ہے اثر بندگی کا ہے یا معجزہ ہے ورق زندگی کے پلٹتے ہیں جب جب میں حیرت سے دیکھوں کہ کیا کیا لکھا ہے یہ موجیں یہ ساحل یہ کشتی یہ دریا نہ جانے کہاں ناخدا لاپتہ ہے وہی موڑ ہیں اور وہی رہ گزر بھی غضب یہ ہے کہ ہر مسافر نیا ہے لگاتے رہو لاکھ چہرے پہ چہرے مگر یاد ہو سامنے آئنہ ہے نہ پنگھٹ نہ رشتے نہ سکھ دکھ کی باتیں مرا گاؤں اب شہر جو بن گیا ہے بہکنے لگی ہے زباں اب تو ان کی یوں دولت و شہرت کا چڑھتا نشہ ہے

jidhar dekhtaa huun nazaara tiraa hai

غزل · Ghazal

پی کر شراب بزم میں پھر آئیے ذرا ہے مے کشی میں ہوش بھی بتلائیے ذرا یوں پڑھ رکھے ہیں ہم نے تو کتنے ہی فیصلے دل کی عبارتوں کو بھی پڑھوائیے ذرا مجھ سا نہیں ملے گا تمہیں یار پھر کہیں چاہیں تو گھوم کر یہ جہاں آئیے ذرا اچھی نہیں ہے بے رخی مجھ سے یوں آپ کی آ کر قریب سے ہی گزر جائیے ذرا ہوتا کبھی حبیب جو بنتا رقیب ہے قسمت کے رنگ دیکھتے رہ جائیے ذرا باہر بہت ہی گرد ہے دھوکے فریب کی یوں پیرہن بدل کے ہی گھر آئیے ذرا بیڑی بنے ہیں کچھ تو یہاں رسم اور رواج یوں گیتؔ کو قفس سے نکلوائیے ذرا

pi kar sharaab bazm mein phir aaiye zaraa

غزل · Ghazal

کاش مجھ سے بھی روشنی نکلے میرے دامن سے کچھ کمی نکلے عاشقی ہو یا بندگی کے پل اپنے لہجے سے شاعری نکلے یوں بھی ہوتا ہے درد کی حد میں زرد آنکھوں سے کچھ نمی نکلے بات کچھ تلخ ہو یا میٹھی سی اس زباں سے سہی سہی نکلے سامنے آپ ہوں یہی خواہش جسم سے جان جب کبھی نکلے صرف مسکان دل تلک اتری لفظ ان کے تو کاغذی نکلے

kaash mujh se bhi raushni nikle

غزل · Ghazal

یہاں دیکھوں وہاں دیکھوں جہاں دیکھوں میں کیا دیکھوں کبھی خود میں تجھے دیکھوں کبھی تجھ میں خدا دیکھوں غرض خود سے نہیں کوئی نہ چاہت ہے زمانے کی کہاں ہستی مری پھر جو تجھے خود سے جدا دیکھوں محبت کی نظر میں یار لکھی ہو محبت بس کبھی دیکھوں میں خود کو تو کبھی اس کی وفا دیکھوں نئی منزل نئی صورت نیا منظر مری فطرت بدلتا ہوں میں روز و شب ٹھکانہ بھی نیا دیکھوں وہ الفت کی نگاہیں ہوں وہ چہروں پہ تبسم ہو مقدس سے دروں دل پہ لکھا نامے وفا دیکھوں نفاست آہ بھرتی ہے ذلالت کھلکھلاتی ہے بھری دنیا میں یارب میں کبھی خود کو تنا دیکھوں یہ اک دنیا دکھے باہر وہ اک دنیا مرے بھیتر بتا مجھ کو مرے مالک کہاں اپنا پتا دیکھوں

yahaan dekhun vahaan dekhun jahaan dekhun main kyaa dekhun

Similar Poets