Gul Gulshan
کسی کی کوئی خطا نہیں ہے مجھے شکایت گلہ نہیں ہے رہی ہوں سب کے دکھوں میں شامل وفا کا کوئی صلہ نہیں ہے حریف میری رہی ہے دنیا کوئی بھی مخلص ملا نہیں ہے ہمیں سے گلشنؔ کی آبرو ہے گلوں میں بوئے وفا نہیں ہے
kisi ki koi khataa nahin hai