Gulab Zakhmi
Gulab Zakhmi
Gulab Zakhmi
Ghazalغزل
نادان کچھ نہیں ہے ترے اختیار میں ہر چیز تو ہے قبضۂ پروردگار میں اس دور میں وفا کی حقیقت میں کیا کہوں جیسے سراب آئے نظر ریگزار میں ہے وقت کا تقاضا رہیں اتفاق سے افسوس مبتلا ہوئے ہم انتشار میں دشمن پہ وقت آئے تو میں انتقام لوں شامل نہیں ہے دوستو میرے شعار میں اہل چمن تو شاد ہیں مسرور ہیں مگر زخمیؔ گلاب ہو گئے فصل بہار میں
naadaan kuchh nahin hai tire ikhtiyaar mein
اشک پینا پڑا غم چھپانا پڑا تم سے مل کر ہمیں مسکرانا پڑا ہو کے نادم وہ ملنے کو جب آ گئے سارا شکوہ گلہ بھول جانا پڑا آ کے دہلیز پر مجھ سے خوددار کی مال و زر کو ترے سر جھکانا پڑا جھک گئے سر سبھی کے تو آخر مجھے پیش تیغ ستم سر اٹھانا پڑا کھیل دل کا بھی زخمیؔ عجب کھیل ہے جیت کر بھی مجھے ہار جانا پڑا
ashk piinaa paDaa gham chhupaanaa paDaa
خدا کے واسطے اک بار تو چلے آؤ تمہاری راہ میں آنکھیں بچھا رہا ہے کوئی میں جام کیسے اٹھاؤں بھلا اے بادہ کشو نگاہ ناز سے مجھ کو پلا رہا ہے کوئی گلوں پہ قطرۂ شبنم نہیں حقیقت میں کسی کی یاد میں آنسو بہا رہا ہے کوئی چلو وہیں پہ ابھی جا کے ہم بھی بس جائیں سنا ہے پیار کی دنیا بسا رہا ہے کوئی ہماری شیر و شکر کی طرح محبت میں لو آج زہر عداوت ملا رہا ہے کوئی کسی کو خوف جہنم جہاں میں ہے زخمیؔ اسی جہان کو جنت بنا رہا ہے کوئی
khudaa ke vaaste ik baar to chale aao
بیتے دن جب بھی یاد آتے ہیں اشک پلکوں پہ جھلملاتے ہیں تیری یادوں کے چاند تاروں سے شب فرقت کو ہم سجاتے ہیں حال فصل بہار مت پوچھو پھول کانٹوں میں منہ چھپاتے ہیں تم جو کہتے ہو صرف کہتے ہو ہم جو کہتے ہیں کر دکھاتے ہیں ہم کہ فتنہ فساد کی باتیں جہاں سنتے ہیں بھول جاتے ہیں وہی تقسیم کے ہیں ذمے دار ہم پہ الزام جو لگاتے ہیں پھر سے تقسیم ہم نہ ہو جائیں آج حالات یہ بتاتے ہیں میری انگلی پکڑ کے چلتے تھے اب مجھے راستہ دکھاتے ہیں تیرے اشعار ہیں کہ اے زخمیؔ ذوق والوں سے داد پاتے ہیں
biite din jab bhi yaad aate hain





