Gulam Rasool Tariq
Gulam Rasool Tariq
Gulam Rasool Tariq
Ghazalغزل
yaaraa nahin jin mein dushmani kaa
یارا نہیں جن میں دشمنی کا دعویٰ نہ کریں وہ دوستی کا عنواں نہ ملے جو خود سری کا کھلتا نہیں باب آگہی کا ان کو تھا خیال دوستی کا وہ دور گزر چکا کبھی کا دستور نہیں کچھ اس صدی کا کب دور نہ تھا روا روی کا اے دوست گلہ نہ کر کسی کا احساس ہے یہ بھی کمتری کا وہ چاند اتر چکا ہے دل میں محتاج نہیں جو روشنی کا بہتان ہے یہ کہ جی رہا ہوں الزام ہے مجھ پہ زندگی کا جینے کو تو جی رہی ہے دنیا جینا ہے مگر کسی کسی کا جس وقت سحر قریب ہوگی پوچھیں گے مزاج چاندنی کا وہ پوچھ رہے ہیں مجھ سے طارقؔ کیا حال ہے تیری شاعری کا
aap hi naakhudaa rahaa huun main
آپ ہی ناخدا رہا ہوں میں آپ ہی ڈوبتا رہا ہوں میں عشق سے آشنا رہا ہوں میں حسن کا مدعا رہا ہوں میں کہیں تیرا بھرم نہ کھل جائے خود کو خود سے چھپا رہا ہوں میں رونق دو جہاں مجھی سے ہیں آ رہا ہوں میں جا رہا ہوں میں جیسے کوئی بھی حق نہ ہو مجھ کو یوں تجھے دیکھتا رہا ہوں میں اے جنوں اب تو رہبری فرما حرف مطلب پہ آ رہا ہوں میں میرے ذمے ہے کس قدر مشکل جاگتے کو جگا رہا ہوں میں اے خدا تجھ سے کچھ نہ مانگ سکوں یہ دعا مانگتا رہا ہوں میں گمرہی کا مجھے نہ دے الزام تجھ کو پہچانتا رہا ہوں میں یہ زمانہ بھی دیکھنا تھا مجھے تجھ سے آنکھیں چرا رہا ہوں میں ظرف میرا بلند ہے طارقؔ جان کر ہارتا رہا ہوں میں





