Gulfam Naqvi
Gulfam Naqvi
Gulfam Naqvi
Ghazalغزل
در و دیوار پہ یہ کیسی فضا طاری ہے دل دھڑکنے کی صدا جیسے عزا داری ہے کیسے کٹتی ہے ترے ہجر میں مت پوچھا کر سانس تلوار ہے تلوار بھی دو دھاری ہے درد ہو اشک ہوں یادیں ہوں کہ تنہائی ہو تجھ سے منسوب ہر اک چیز مجھے پیاری ہے میرا حالات سے سمجھوتا نہیں ہو پایا جنگ جو جاری تھی مجھ میں وہ ابھی جاری ہے دیکھنا دیکھ کے چھونے کی تمنا کرنا کس قدر ذوق طلب آپ کا بازاری ہے گن کے رکھے ہیں تری یاد کے موتی دل میں دل سے محفوظ بھلا کون سی الماری ہے یہ جو گلفامؔ ترے بعد جئے جاتی ہے دنیا داری ہے بناوٹ ہے اداکاری ہے
dar-o-divaar pe ye kaisi fazaa taari hai
ترک الفت ہے تو پھر یہ بھی سکھاتے جاؤ کس طرح ہجر میں جیتے ہیں بتاتے جاؤ لوٹ آنے کا ارادہ جو نہیں ہے تو پھر دل سے ہر نقش محبت کا مٹاتے جاؤ چاہے دیکھے نہ پلٹ کر تمہیں جانے والا تم اسے تکتے رہو ہاتھ ہلاتے جاؤ شب کی وحشت میں وہ چمکیں تو تمہیں یاد کروں کچھ ستارے مرے آنچل پہ سجاتے جاؤ نام جو مل کے درختوں پہ لکھے تھے ہم نے وہ نشانی بھی کسی طور مٹاتے جاؤ شدت ہجر سے ہے تنگ بہت دل کی زمیں وصل کا آخری اک جام پلاتے جاؤ اب تو کرنے کو یہی کام بچا ہے گلفامؔ سسکیاں بھرتے رہو اشک بہاتے جاؤ
tark-e-ulfat hai to phir ye bhi sikhaate jaao
اگرچہ وہ بہت اچھا نہیں ہے مگر کوئی بھی اس جیسا نہیں ہے کسی کا ہو نہ ہو یہ اس کی مرضی مگر طے ہے کہ وہ میرا نہیں ہے ہوں یوسف کے خریداروں میں شامل اگرچہ جیب میں دھیلا نہیں ہے میں جب چاہوں اسے محسوس کر لوں بچھڑنے کا کوئی خدشہ نہیں ہے جدائی کی حقیقت سے ہے واقف یہ دل میرا کوئی بچہ نہیں ہے نہ جانے کتنے برسوں سے مری جاں تری قربت کا پل گزرا نہیں ہے مجھے گلفامؔ دنیا جانتی ہے مگر اس نے کبھی جانا نہیں ہے
agarche vo bahut achchhaa nahin hai
کب مجھے عشق کے انجام سے ڈر لگتا ہے دل مضطر ترے ہنگام سے ڈر لگتا ہے شوق جینے کا ہے مجھ کو بھی بہت ہے لیکن زندگانی ترے آلام سے ڈر لگتا ہے ہجر سے بن گیا ہے اتنا قریبی رشتہ اب تو اے وصل ترے نام سے ڈر لگتا ہے اچھی لگتی تھی ہمیں شام ترے ہوتے ہوئے آج تو ہجر بھری شام سے ڈر لگتا ہے خاک ہو جائیں نہ جل کر کہیں جذبات وفا دل میں اٹھتے ہوئے کہرام سے ڈر لگتا ہے دو قدم بھی مرے ہم راہ نہیں چل سکتے وہ جنہیں گردش ایام سے ڈر لگتا ہے ہم کو تو اپنی سمجھ ہی نہیں آتی لوگو ہم وہ گل ہیں جنہیں گلفامؔ سے ڈر لگتا ہے
kab mujhe ishq ke anjaam se Dar lagtaa hai





