SHAWORDS
Gulnaz Khan

Gulnaz Khan

Gulnaz Khan

Gulnaz Khan

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

raat mein din qiyaam karte hain

رات میں دن قیام کرتے ہیں ہم چراغوں کا کام کرتے ہیں بے بسی اپنی عام کرتے ہیں سب کا جینا حرام کرتے ہیں درد کا احترام کرتے ہیں غم بھی جھک کر سلام کرتے ہیں ہم فدا ہیں اداؤں پہ اپنی کام خود کا تمام کرتے ہیں اس سے پہلے کہ دم نکل جائے ہم بھی کچھ کام دھام کرتے ہیں

غزل · Ghazal

fikr ham ko nahin ki kyaa hogaa

فکر ہم کو نہیں کہ کیا ہوگا جب کیا ہے برا برا ہوگا ہم نے جو آپ سے کہا ہوگا آپ نے اور کچھ سنا ہوگا زندگی رات دن وہی کہ وہی موت کے پاس کچھ نیا ہوگا مجھ کو تنہا رکھا ہے دنیا میں میرے حصہ میں کچھ بچا ہوگا خوشبو میری چرا کے وہ گم ہے ہر گلی گل کھلا رہا ہوگا

غزل · Ghazal

kho gayaa jo raqam nahin karte

کھو گیا جو رقم نہیں کرتے آنکھ بے وجہ نم نہیں کرتے عمر سے شکوہ ہم نہیں کرتے حسن خود اپنا کم نہیں کرتے ہچکیاں لگ نہ جائیں اس کو کہیں اس لیے یاد ہم نہیں کرتے اس کی خاموشی سنتے رہتے ہیں شور ہم کوئی دم نہیں کرتے وقت ساتھی ہے کیا کریں شکوہ اس کے آگے قدم نہیں کرتے سب کے غم کا حساب رکھتے ہیں عام جو اپنا غم نہیں کرتے

غزل · Ghazal

nahin mujh ko pata vo meraa hai bhi yaa nahin hai

نہیں مجھ کو پتہ وہ میرا ہے بھی یا نہیں ہے مسلسل رابطہ ہے اس سے پر رشتہ نہیں ہے کتابیں ہو گئیں بیوہ کتب خانوں کے اندر کسی نے مدتوں ان کی طرف دیکھا نہیں ہے ہے امکانات کا کتنا بڑا سا دائرہ پر بڑی شاید مری ہی سوچ کی دنیا نہیں ہے بھٹکتے پھر رہے در در مرمت میں خودی کی کہا تھا نا محبت عقل کا رستہ نہیں ہے جو بتی بجھ گئی تھی آج روشن ہو رہی ہے اندھیرا عمر بھر تک اک جگہ ٹکتا نہیں ہے

غزل · Ghazal

shaa'iri ke sivaa bachaa kyaa hai

شاعری کے سوا بچا کیا ہے سوچتی ہوں یہ سلسلہ کیا ہے زندگی تو ہے واپسی کا سفر اور اس ہاتھ پہ لکھا کیا ہے ہم تو سب کچھ گنوا کے بیٹھے ہیں سب جو حاصل ہو پھر مزہ کیا ہے آزماتی ہے بار بار مجھے زندگی مجھ سے اب گلا کیا ہے درد میں میرے وہ سسکتا ہے ایسے ہمدرد کی دوا کیا ہے کچھ دلیلیں یہاں نہیں چلتیں عشق کا اور دائرہ کیا ہے مجھ کو اجڑا ہوا ہی رہنے دو کاش پوچھے کوئی ہوا کیا ہے اس بھلے آدمی کا کیا کیجے جو نہیں جانتا برا کیا ہے مے کدوں میں بھی ذکر ہو جس کا اس کا پھر اور مرتبہ کیا ہے چال صیاد تیری جان چکے جال میں تیرے اب بچا کیا ہے بے بسی بے وفائی تنہائی عشق کی شب میں اور لکھا کیا ہے

غزل · Ghazal

aarzu hai ki nazrein milaae koi

آرزو ہے کہ نظریں ملائے کوئی شرم سے میری نظریں جھکائے کوئی کامیابی سجاتے ہیں دیوار پر خامیوں کو بھی اپنی سجائے کوئی بن کے اشعار بکھرے پڑے ہیں کئی مجھ کو پوری غزل اک بنائے کوئی اس سے پہلے کہ مرجھا کے رکھ دے ہوا گل کو گلدان میں بھی سجائے کوئی

Similar Poets