
Gulshan Barelvi
Gulshan Barelvi
Gulshan Barelvi
Ghazalغزل
tire karam ko tiri be-rukhi ko dekhaa hai
ترے کرم کو تری بے رخی کو دیکھا ہے ملی ہے موت کبھی زندگی کو دیکھا ہے وہ جس میں ڈوب کے رہ جائے چڑھتا سورج بھی رہ حیات میں اس تیرگی کو دیکھا ہے سوائے روح کی اک تشنگی کے کچھ نہ ملا بہت قریب سے جب زندگی کو دیکھا ہے نہ جانے کتنے دیے بجھ گئے ہیں تب جا کر نئی سحر کو نئی روشنی کو دیکھا ہے کبھی کسی کی وفاؤں پہ شک نہیں کرتا وہ شخص جس نے مری بے بسی کو دیکھا ہے یہ دیر ہے وہ حرم اس سے کیا غرض مجھ کو ہر ایک روپ میں میں نے اسی کو دیکھا ہے کبھی کسی کی بھی بے چارگی پہ مت ہنسئے یہ وہ مقام ہے جس پر سبھی کو دیکھا ہے ہم آشنا ہیں نزاکت سے وقت کی گلشنؔ کہ ہم نے چڑھتی اترتی ندی کو دیکھا ہے
zindagi jitne tire chaahne vaale honge
زندگی جتنے ترے چاہنے والے ہوں گے اک نہ اک دن وہ کسی غم کے حوالے ہوں گے شرط یہ ہے کہ کوئی شمع تمنا نہ جلے راہ مستی میں ہر اک سمت اجالے ہوں گے جس پر اے دوست تری چشم عنایت ہوگی اس کے انداز ہی دنیا سے نرالے ہوں گے ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ بچھڑ کر ان سے راحت جاں تو الگ جان کے لالے ہوں گے اس کی نظریں ہی بتا سکتی ہیں سچی قیمت جس نے موتی تہ دریا سے نکالے ہوں گے ہم کو معلوم نہ تھی رسم محبت اے دوست جوڑنے والے ہی دل توڑنے والے ہوں گے جن مقامات پہ ہم ان سے ملے تھے گلشنؔ اک نہ اک دن وہاں تعمیر شوالے ہوں گے
sukhon mein chaahe dukhon mein miri hayaat rahe
سکھوں میں چاہے دکھوں میں مری حیات رہے ہے آرزو مرے ہاتھوں میں تیرا ہاتھ رہے تمہارا پیار جو میرا چراغ راہ بنے تو کوئی فکر نہیں دن رہے کہ رات رہے انا کی بات اگر ہے تو کوئی حل ڈھونڈو تمہاری ضد بھی ہو پوری مری بھی بات رہے ندی کے جیسے کنارے کبھی نہیں ملتے یوںہی کچھ اپنے مقدر کے کاغذات رہے رہ حیات میں کیونکر نہ پیش پیش ملے وہ شخص جس پہ تری چشم التفات رہے میں ان سے ترک تعلق بھلا کروں کیسے جو لوگ رنج و مصیبت میں میرے ساتھ رہے تری تلاش میں تجھ کو تو پا سکے نہ مگر تمام عمر اسیر تحیرات رہے دیا اک ایسا جلاؤ اجالے میں جس کے نہ قید مذہب و ملت نہ ذات پات رہے خوشی نہ غم سے الگ ہے نہ غم خوشی سے الگ مری حیات کے گلشنؔ یہ تجربات رہے
ik sahraa thaa bas paani kahin thaa na havaa thi
اک صحرا تھا بس پانی کہیں تھا نہ ہوا تھی بن تیرے حیات اپنی بڑی سخت سزا تھی یہ شمع محبت تو کبھی بجھتی نہیں ہے میں سوچ رہا ہوں کہ کہاں میری خطا تھی ایسا نہیں دنیا تھی ہمیشہ ہی سے ایسی وہ دور بھی تھا جس میں محبت تھی وفا تھی دی وقت نے دستک تو مرے در پہ کئی بار در جس نے نہ کھولا وہ مری اپنی انا تھی آسان نہ تھا یوں رہ ہستی سے گزرنا کیا جانئے کس کس کی مرے ساتھ دعا تھی ہم جس کو سمجھ بیٹھے تھے اے دوست تغافل سنتے ہیں کہ اس شوخ کی وہ خاص ادا تھی یوںہی نہیں اللہ پہ لائے ہیں یقیں لوگ انسان کے ہاتھوں میں فنا تھی نہ بقا تھی ورنہ تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کبھی گلشنؔ لگتا ہے تباہی میں مری ان کی رضا تھی
hadd-e-nigaah dhuup si bikhri hui lagi
حد نگاہ دھوپ سی بکھری ہوئی لگی تیرے بغیر ایک سزا زندگی لگی سوچا تھا میں نے ہنس کے گزر جاؤں گا مگر چلنے پہ راہ زیست کی کانٹوں بھری لگی دنیا حسیں ہے اس کی ہر اک شے حسیں مگر دل کو بھلی لگی تو تری سادگی لگی اس کا وجود ہو گیا محسوس جس گھڑی گھر کی ہر ایک چیز مہکتی ہوئی لگی وہ تلخیٔ قضا ہو کہ رنگینئ حیات سب میں تری نگاہ کی جادوگری لگی کہتے ہیں لوگ بے وفا اس کو مگر مجھے کچھ اپنے پیار اپنی وفا میں کمی لگی جیسے کہ شب کے ساتھ جڑی رہتی ہے سحر رنج و خوشی میں بھی یوںہی وابستگی لگی تو یوں بسا ہوا ہے دل و ذہن میں مرے جس بزم میں گیا مجھے محفل تری لگی نظریں چرا کے جاتے اسے آج دیکھ کر قدموں تلے زمین سرکتی ہوئی لگی ایسی ہے کیا کہ جان ہی پایا نہ میں اسے ہستی بس ایک خواب تو کیا خواب سی لگی گلشنؔ وہ جس گھڑی سے مرے ہم سفر ہوئے ہر راہ زندگی کی چمکتی ہوئی لگی
ye zamin achchhi lagi ye aasmaan achchhaa lagaa
یہ زمیں اچھی لگی یہ آسماں اچھا لگا ساتھ جب تک تم رہے سارا جہاں اچھا لگا تھی ہواؤں میں مہک اس کے بدن کی ہر طرف فصل گل اچھی لگی دور خزاں اچھا لگا اس سے ملنے کی للک میں جی رہا ہوں آج تک ورنہ بے مقصد سفر تنہا کہاں اچھا لگا جو کہا اس نے سراسر جھوٹ تھا سچ ہے مگر مطمئن میں تھا کہ انداز بیاں اچھا لگا مختلف ملکوں سے قومیں آئیں آ کر بس گئیں کچھ تو ہے ہی جو انہیں ہندوستاں اچھا لگا شیخ مسجد میں برہمن دیر میں میں میکدے صبح تک سب تھے وہاں جس کو جہاں اچھا لگا دوستو سچ سچ بتانا خاک تو میں ہو گیا کیا تمہیں گھر سے مرے اٹھتا دھواں اچھا لگا دشمن جاں اس کو کہتا ہے تو کوئی بے وفا جانے کیوں گلشنؔ مجھے وہ جان جاں اچھا لگا





